رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: امریکی معیشت کب تک تباہ حال رہے گی؟


ڈاکٹر انتھونی فاؤچی (وبائی امراض کے معروف امریکی ماہر)

کرونا وائرس کی پراسرار وبا جب کہ بہت بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے زیاں اور معیشت کی بربادی کا بدستور سبب بن رہی ہے، امریکہ میں ماہرین اس بات پر بحث و تمحیص کر رہے ہیں کہ امریکہ کی معیشت آخر کب تک تباہ حالی کا شکار رہے گی؟ اہم سوال یہ ہے کہ کیا معیشت فوری طور پر بحالی کی طرف آ جائے گی یا یہ عمل بتدریج ہی ممکن ہو سکے گا۔

اسی دوران محکمہ محنت کے اعداد و شمار سے متعلق امریکی بیورو کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 14 اعشاریہ 7 فیصد ہو گئی ہے جو 1948 کے بعد سے امریکہ میں بیروزگاری کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ جب کہ اپریل میں بیروزگاری کی شرح خراب تھی، مئی کے مہینے میں بھی کوئی بہتر توقعات نہیں ہیں۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کے ماہرین پرامید ہیں کہ معیشت تیزی کے ساتھ بحالی کی جانب آ جائے گی۔ تاہم دوسروں کو اتنی زیادہ خوش امیدی نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ کی ایلیزہ بیتھ لی نے اپنی رپورٹ میں وہائٹ ہاؤس میں قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر لیری کوبلو کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیروزگاری کی تباہ کن صورت حال کے باوجود انھیں امید کی کرن نظر آ تی ہے، اس لئے کہ بقول ان کے بہت سے بیروزگار لوگ وہ ہیں جنھیں محض عارضی طور پر ان کے گھروں کو بھیج دیا گیا ہے، تاہم انھیں اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ صورت حال مستقبل قریب میں بہتر ہونے نہیں جا رہی۔

امریکی معاشی منظر نامے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی شرح کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ تجزیہ کار لیز سونڈر کے مطابق اس کی ایک وجہ سرکاری امدادی پیکج ہے۔

کرونا وائرس کی وبا سے انسانی جانوں کو لاحق جاری خطرات کے باوجود اس بارے میں احتجاج کیا جا رہا ہے کہ گھروں پر رہنے کی بندش کو ختم کیا جائے۔ بہت سی ریاستیں رفتہ رفتہ کاروبار کھول رہی ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کے عہدیدار لیری کوبلو کے نزدیک ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سال کے اختتام پر امریکہ کی معیشت میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی۔ انھوں نے دعوی ٰکیا کہ سال کے دوسرے نصف میں 20 فیصد تک اقتصادی نمو کا امکان ہے اور اگلے سال یعنی 2021 میں ملکی معیشت میں زبردست بحالی دیکھی جا سکے گی۔

تاہم مینا پولیس فیڈرل ریزور بینک کے سربراہ نیل کشکاری نے خبردار کیا ہے کہ یہ نقطہ نظر بہت زیادہ خوش امیدی پر مبنی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ المیہ یہ ہے کہ لوگ بدستور ہلاک ہو رہے ہیں، اور جن ملکوں میں بھی اقتصادی بندش نرم کی جاتی ہے، وہا کرونا وائرس پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں، اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو کسی نہ کسی طور یہ سال دو سال تک یوں ہی چلتا رہے گا۔

یاد رہے کہ کووڈ 19 کے بحران کے تباہ کن اقتصادی اثرات سے بچنے کے لئے امریکی حکومت اب تک تین ٹریلین ڈالر کے قریب مالی امداد دے چکی ہے۔ جب کہ ڈیموکریٹک ارکان کانگریس ریاستوں اور مقامی حکومتوں کی اعانت سمیت ایک اور امدادی پیکج کے لئے زور دے رہے ہیں، اور ساتھ ہی طبی جانچ اور بیرزگاروں کے لئے مزید پیسوں کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن بہت سے ریپبلکن ارکان ایک اور امدادی پیکج کے سلسلے میں زیادہ محتاط رویہ رکھتے ہیں۔

اس منظر نامے میں بہت سے ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت کتنی تیزی کے ساتھ بحال ہو پائے گی، اس کا انحصار، اور باتوں کے علاوہ، اس پر بھی ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین آخر کب دستیاب ہوتی ہے؟ انتظار کی یہ کیفیت یقیناً بے یقینی کا سبب بنتی رہے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG