رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:07 30.4.2020

بندرگاہ پر موجود سیکڑوں گاڑیوں کو لے جانے والا کوئی نہیں

14:24 30.4.2020

اسلام آباد: 30 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد دو سب سیکٹرز سیل

اسلام آباد کے سیکٹر آئی-10 کے دو سب سیکٹرز میں 30 سے زائد کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد انہیں سیل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان دو سب سیکٹرز میں کرونا کیسز سامنے آنے کے بعد سیل کیا جارہا ہے.

نوٹیفکیشن کے مطابق اس مقصد کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز اور فوج کی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق 28 اپریل تک اس علاقے میں 30 سے زائد کیسز سامنے آ چکے تھے جس کی وجہ سے اس علاقے کو ہائی رسک قرار دے کر سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں کیونکہ علاقے میں موجود مریضوں سے وبا پھیلنے کا خدشہ تھا۔

بیشتر مریضوں کو گھروں پر قرنطینہ کیا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں مزید افراد کے ٹیسٹ کر رہی ہیں۔

14:52 30.4.2020

سندھ میں وبا سے ایک ہی روز میں 12 اموات

صوبہ سندھ میں کرونا سے ایک ہی روز میں 12 اموات ہوئی ہیں جو وبا کے آغاز اب تک ایک روز میں ہونے والی سب سے زیاد اموات ہیں۔ دوسی جانب کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 6ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے۔

ترجمان وزیر اعلیٰ ہاوس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز صوبے میں کرونا کے 358 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 53 بتائی جاتی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک ہی روز میں 358 نئے کیسز سامنے آنا پریشان کن بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کے 24 گھنٹوں میں مزید 2578 ٹیسٹ کیے گئے ۔ اب تک صوبے میں 54377 ٹیسٹ ہو چکے ہیں جب کہ مریضوں کی کُل تعداد 6053 ہوگئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مُراد علی شاہ نے کہا کہ اب تک 1222 مریض صحت یاب ہوئے جو کُل تعداد کا 20.2 فی صد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کرونا کے باعث 12 نئی اموات کے ساتھ اموات کی تعداد 112 ہو گئی ہے۔

ان کے بقول سندھ میں کرونا وائرس کے 4721 مریض زیر علاج ہیں۔ جن میں 3473 مریض گھروں میں قرنطینہ میں ہیں جب کہ 741 مریض قرنطینہ مراکز اور 505 اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 30 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جب کہ 17 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

خیال رہے کہ صوبے میں کرونا کے باعث انتقال کرنے والوں میں 73 فی صد مرد جب کہ 27 فی صد خواتین بتائی جاتی ہیں۔

16:17 30.4.2020

پاکستان کی جی ڈی پی سات دہائیوں کے بعد منفی 1.6 رہنے کا اندیشہ

پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) سات دہائیوں کے بعد رواں مالی سال منفی 1.6 رہنے کا خدشہ ہے۔ جس کا سبب کرونا وائرس کے باعث پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔

معیشت میں گراوٹ کا یہ اندازہ وزارت خزانہ کی جانب سے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 52-1951 میں تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.8 فی صد رہی تھی۔

وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی ترقی و دیگر مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ کرونا وائرس کے سبب معیشت پر منفی اثرات کی بدترین صورت جاری رہنے پر پاکستان کی شرح نمو یعنی جی ڈی پی منفی 1.57 رہنے کا خدشہ ہے۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG