کرونا وائرس ویکسین: کلینکل ٹرائل کے مرحلے میں داخل
کرونا وائرس کی مہلک وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے امریکہ میں تیار کی گئی ویکسین کی کلینکل ٹرائل شروع کر دی گئی ہے۔ نیویارک میں گزشتہ سوموار کو پہلے امیدوار کے بازو میں اس ویکسین کا انجیکشن لگایا گیا۔
نیویارک سے شائع ہونے والے اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق، ان رضاکاروں کو یہ ڈوز یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ٹرائل سینٹر اور نیویارک یونیورسٹی لیگون ہیلتھ میں دئے گئے اور انسانوں پر یہ تجربات ادویات کی کمپنی فائزر اور بائیو این ٹیک کے تعاون سے کئے جا رہے ہیں۔
اسی طرح کے تجربات فائزر کمپنی کے تحت جرمنی میں بھی شروع کئے گئے ہیں۔ دنوں ممالک میں تجربات صحت مند مریضوں میں کئے جا رہے ہیں جنھیں تجرباتی طور پر تیار کی گئی چار ویکیسنوں یا سلائین سلوشن میں سے ایک کے دو دو ڈوز دئے جائیں گے۔
اگر یہ ویکسن کامیاب رہے اور اس کی منظوری مل گئی تو ماہرین کو توقع ہے کہ اس ویکسین کے لاکھوں ڈوز تیزی سے تیار کرلیے جائیں گے۔
کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے خواہش مندوں کی پارٹیاں
کرونا وائرس کا علاج یا ویکسین موجود نہیں اس لیے دنیا بھر میں لوگ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اربوں افراد لاک ڈاؤن میں گھر پر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو وبا کے دنوں میں خصوصی پارٹیاں کر رہے ہیں، تاکہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہوسکیں۔
امریکہ، برطانیہ، جرمنی، نیدرلینڈز، بیلجیم، آسٹریا اور اسٹونیا میں ایسی تقریبات میڈیا میں آچکی ہیں اور سرکاری حکام نے ان پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
بیلجیم میں 15 مارچ کو سماجی فاصلے کے سرکاری ہدایات پر عمل کا آغاز ہونے سے پہلے کی رات کو متعدد تقریبات کا ہنگامی طور پر اہتمام کیا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے نتیجے میں کتنے افراد وائرس میں مبتلا ہوئے، لیکن گزشتہ چھ ہفتوں میں بیلجیم یورپ میں وائرس کے بدترین شکار ملکوں میں شامل ہے۔
ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی، عملدرآمد کیسے؟
امریکی ریاست مشی گن کے شہر فلنٹ میں فیملی ڈالرز نامی ایک سٹور کے باہر ایک گارڈ کو صرف اس لئے گولی مار دی گئی کہ اس نے ایک خاتون کو اندر جانے سے روکتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ بچے کو بھی فیس ماسک پہننا ہو گا۔ چھ بچوں کا باپ ایک بچے کی حفاظت کی بات کرتے ہوئے جان سے گیا۔
امریکہ میں نصیحت کرنا یا نصیحت سننا کوئی پسند نہیں کرتا۔ اسی لئے جب امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر آسٹن میں ایک پارک کے نگران نے چند لوگوں کو سماجی فاصلے کی پابندی نہ کرنے پر ٹوکا تو ان میں سے ایک نے اسے دھکا دے کر کئی فٹ گہرے پانی میں گرا دیا۔
اگرچہ دونوں واقعات میں پولیس حرکت میں آئی اور قانون کے مطابق کارروائی بھی ہو رہی ہے مگر ایک انسان کا دوسرے کے خلاف فوری ردِّ عمل تشویشناک ضرور ہے۔
کرونا وائرس نے ہزاروں ہاتھیوں کو بے روزگار کردیا
کرونا وائرس سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور حکومتیں ان کی مدد کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں۔ لیکن تھائی لینڈ کے ان دو ہزار ہاتھیوں کے متعلق کوئی نہیں سوچ رہا جن سے اس عالمی وبا نے روزگار چھین لیا ہے اور وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے دوبارہ جنگلوں کا رخ کر رہے ہیں۔
بنکاک سے آنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سو ہاتھیوں کا ایک قافلہ تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اپنے آبائی جنگل میں واپس پہنچ گیا ہے، تاکہ گھاس پھوس اور پتے کھا کر اپنی بھوک مٹا سکے۔
ہر سال لاکھوں سیاح تھائی لینڈ جاتے ہیں۔ وہاں کی ثقافت، بودھ خانقاہیں اور عبادت گاہیں، تفریحی مقامات، خوبصورت مناظر اور ہاتھیوں کی سیر ان کے لیے بڑی کشش رکھتی ہے۔ بہت سے لوگ اور کمپنیاں اپنا روزگار ہاتھیوں سے کماتے ہیں۔
وہ جنگلوں سے ہاتھی پکڑ کر لاتے ہیں۔ انہیں سواری کے لیے سدھارتے ہیں۔ انہیں خوبصورت نقش و نگار اور زیورات سے سجاتے ہیں۔ ان پر دیدہ زیب ہودے رکھے جاتے ہیں، جن پر سیاح سفر کرتے ہیں اور اپنی ان خوبصورت یادوں کو سلفیوں اور ویڈیوز کی شکل میں ہمیشہ کے لیے محٖفوظ کر لیتے ہیں۔