رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس نے تھائی لینڈ کے ہزاروں ہاتھیوں کو بے روزگار کر دیا


ہاتھی شہروں سے جنگل واپس جا رہے ہیں۔

کرونا وائرس سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور حکومتیں ان کی مدد کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں۔ لیکن تھائی لینڈ کے ان دو ہزار ہاتھیوں کے متعلق کوئی نہیں سوچ رہا جن سے اس عالمی وبا نے روزگار چھین لیا ہے اور وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے دوبارہ جنگلوں کا رخ کر رہے ہیں۔

بنکاک سے آنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سو ہاتھیوں کا ایک قافلہ تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اپنے آبائی جنگل میں واپس پہنچ گیا ہے، تاکہ گھاس پھوس اور پتے کھا کر اپنی بھوک مٹا سکے۔

ہر سال لاکھوں سیاح تھائی لینڈ جاتے ہیں۔ وہاں کی ثقافت، بودھ خانقاہیں اور عبادت گاہیں، تفریحی مقامات، خوبصورت مناظر اور ہاتھیوں کی سیر ان کے لیے بڑی کشش رکھتی ہے۔ بہت سے لوگ اور کمپنیاں اپنا روزگار ہاتھیوں سے کماتے ہیں۔

وہ جنگلوں سے ہاتھی پکڑ کر لاتے ہیں۔ انہیں سواری کے لیے سدھارتے ہیں۔ انہیں خوبصورت نقش و نگار اور زیورات سے سجاتے ہیں۔ ان پر دیدہ زیب ہودے رکھے جاتے ہیں، جن پر سیاح سفر کرتے ہیں اور اپنی ان خوبصورت یادوں کو سلفیوں اور ویڈیوز کی شکل میں ہمیشہ کے لیے محٖفوظ کر لیتے ہیں۔

کرونا انفکشن کے پھیلاؤ کے باعث تھائی لینڈ میں سیاحت بالکل ختم ہو گئی ہے۔ فلائٹس، ہوٹل، ریستوران، تفریح گاہیں، ہاتھیوں کی سیر، غرض سب کچھ بند پڑا ہے۔ تھائی لینڈ میں سیاحت کی بندش کا مطلب لاکھوں لوگوں کے روزگار کا خاتمہ ہے۔ ہاتھی رکھنے والوں کو جب اپنی جان کے لالے پڑے ہوں تو وہ ہاتھیوں کا پیٹ کہاں سے بھریں گے؟ ہر چیز پیسوں سے آتی ہے۔ کرونا نے یہ چشمہ ہی بند کر دیا ہے۔

ہاتھی شہروں سے جنگلوں میں جا رہے ہیں، جس پر شمالی صوبے چیانگ مائی میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ 'سیو ایلی فنٹ فاؤنڈیشن' نے ہاتھیوں کی اپنے آبائی وطن واپسی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

یہ گروپ ان دنوں فنڈ ریزنگ کر رہا ہے، تاکہ ان ہاتھیوں کے لیے خوراک کا بندوبست کیا جا سکے جو کسی وجہ سے ابھی تک شہروں میں ہی رکنے پر مجبور ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کو اپنے آبائی جنگلوں میں واپس بھیج دینا چاہیے تاکہ وہ آزادی سے اپنی زندگی بسر کرسکیں اور اپنے کھانے پینے کے لیے انسان کے محتاج نہ رہیں۔

ہاتھی جنگل میں واپس جا رہے ہیں
ہاتھی جنگل میں واپس جا رہے ہیں

لندن میں قائم جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ 'ورلڈ اینیمل پروٹیکشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کم از کم دو ہزار ہاتھیوں کا بھوک سے مر جانے کا خدشہ ہے، کیونکہ ان کے مالک اب انہیں خوراک فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے۔

چیانگ مائی کے مائے وانگ ڈسٹرکٹ میں سادودی سری چیوی کے پاس چار ہاتھی ہیں۔ انہوں نے یہ ہاتھی سیاحوں کے لیے خریدے تھے اور انہیں رکھنے کے لیے ایک احاطہ بھی کرائے پر لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب کرونا وائرس شروع ہوا تو میرا خیال تھا کہ بس ایک دو مہینے کی بات ہے۔ اپریل تک سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں اپنی بچتوں سے مشکلات کے یہ دو مہینے گزار لوں گا۔ لیکن اب میری امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔ میں انہیں جنگل کے پاس واپس اپنے گاؤں لے آیا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ چار ہاتھیوں کو رکھنےپر ان کے ماہانہ سوا چھ ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جن میں جگہ کا کرایہ، مہاوت اور ہاتھیوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی تنخواہیں اور ہاتھیوں کی خوراک شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھی کھانے کو بہت زیادہ مانگتے ہیں۔ ان کا پیٹ ہی نہیں بھرتا۔ وہ روزانہ ساڑھےچھ سو پونڈ سے زیادہ گھاس اور سبزیاں کھا جاتے ہیں۔ سب کچھ پیسے سے آتا ہے۔ پیسہ دینے والے اب کرونا کے ڈر سے نہیں آ رہے۔

سادودی نے بتایا کہ ہاتھی کوئی بیس سال کے بعد اپنے وطن آئے ہیں۔ ان کی یادداشت بڑی تیز ہے۔ میں بیان نہیں کر سکتا کہ وہ جنگل میں آ کر کتنے خوش ہوئے۔ وہ بہت دیر تک خوشی سے چلاتے رہے۔ پھر کئی گھنٹے جنگل میں بھاگتے رہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ خوش ہوئے جتنا کوئی انسان اپنے گھر آ کر ہوتا ہے۔

سادودی کو فکر ہے کہ کرونا ختم ہونے کے بعد ہاتھی جب اپنے کام پر واپس شہر جائیں گے تو بہت دنوں تک بہت اداس رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG