رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں زبان اور عدم اعتماد بڑی رکاوٹ


نیویارک شہر کے ڈپٹی ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر ڈیمٹرے ڈیسکالاکس کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر نامہ نگاروں سے بات کر رہے ہیں۔ 12 اگست 2020

کرونا کی وبا سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے یہ جاننا بہت اہم ہے کہ مریض کن لوگوں سے براہِ راست رابطے میں رہا۔ مگر امریکہ جیسے ملک میں جہاں بہت سی زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں، اصل دشواری ان علاقوں میں پیش آتی ہے جہاں لوگ انگریزی بالکل نہیں سمجھتے۔

اس کے علاوہ تارکینِ وطن کے اندیشے اور خوف بھی اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں حائل ہو رہے ہیں۔

امریکی شہر شکاگو کے قریب 125 آبادیاں ایسی ہیں جہاں کے مکین ہسپانوی زبان بولتے ہیں۔ ہیوسٹن کے ہیلتھ ورکرز بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ کیلی فورنیا میں تارکینِ وطن کو تربیت دی جا رہی ہے کہ وہ کس طرح ہیلتھ ورکرز کے ساتھ تعاون کریں اور ان پر اعتماد کریں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ بھر میں کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے مریض سے رابطے میں آنے والوں کی تلاش صحت کے عملے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس وقت فلوریڈا، ٹیکساس، ایریزونا اور کیلی فورنیا میں کرونا وبا سب سے زیادہ زوروں پر ہے اور انہیں ریاستوں میں ہسپانوی زبان بولنے والے کثرت سے رہتے ہیں۔

روس میں کرونا وائرس ویکسین کی پروڈکشن شروع
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:08 0:00

اسی طرح ریاست میری لینڈ کے جس علاقے میں سب زیادہ کرونا وائرس پھیلا، وہاں کے 56 فی صد بالغ افراد ہسپانوی زبان بولتے ہیں۔ میری لینڈ میں کرونا کے مریضوں کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد تلاش کرنے والوں کی تعداد 1350 ہے جن میں سے صرف 60 افراد ہسپانوی زبان بول سکتے ہیں۔

زبان کے علاوہ ایک اور مسئلہ عدم اعتماد کا بھی ہے۔ تارکینِ وطن معلومات حاصل کرنے والوں پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ خاص طور پر فون پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر اندر کم از کم 75 فی صد ایسے اشخاص کا پتا لگا لیا جائے جو مریض کے ساتھ رابطے میں آئے تھے۔

صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کی بستیوں میں یہ ہدف پورا کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ اکثر اوقات یہ افراد اپنی سوشل سیکیورٹی اور ہیلتھ انشورنس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

صحت کے حکام اس سلسلے میں گرجا گھروں، مقامی سماجی کارکنوں اور فلاحی اداروں کی مدد لیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ایسے علاقوں میں کام کر رہی ہے جہاں کم آمدنی والے لوگ رہتے ہیں۔ پبلک ہیلتھ کے پروفیسر ڈینئل پارکر کہتے ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ علاقے کے لوگوں کو ہی مریض سے رابطے میں رہنے والوں کی تلاش کا کام سونپا جائے۔

میری لینڈ ریاست میں انگریزی اور ہسپانوی زبان میں پبلک سروس اعلانات کا طریقہ آزمایا جا رہا ہے۔

صحت کے ایک مقامی محکمے کے سینئر میڈیکل افسر ڈاکٹر کرن جوشی کہتے ہیں کہ رابطے تلاش کرنے والے کسی مخصوص کمیونٹی میں بولی جانے والی زبان میں بات کریں تو زیادہ درست اور تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ خاص طور سے اس وقت جب آپ فون کے ذریعے ایسی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG