رسائی کے لنکس

logo-print

کیا کرونا وائرس سے بچے محفوظ ہیں؟


فائل فوٹو

کرونا وائرس کے ابتدائی دنوں میں جو باتیں کہی جا رہی تھیں یا جو اندازے لگائے جا رہے تھے ان میں سے اکثر اندازے اب تبدیل ہو گئے ہیں۔

ایک اندازہ یہ بھی لگایا گیا تھا کہ بچے کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہوتے۔ لیکن پھر بچوں میں اس مرض کے آثار پائے گئے اور اتنی بڑی تعداد میں بچے اسپتالوں میں پہنچے کہ ماہرین کو اپنا خیال تبدیل کرنا پڑا۔

امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ میں گزشتہ چار ہفتوں کے دوران بچوں میں کرونا وائرس کے کیسز میں 90 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر ریاست فلوریڈا میں بچوں کے کیسز میں 137 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

'امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس' اور 'چلڈرن ہاسپٹل ایسوسی ایشن' کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے آخری دو ہفتوں میں امریکہ میں تقریباً ایک لاکھ بچوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:11:18 0:00

اطلاعات کے مطابق بچوں میں اس تعداد میں اضافے کا ایک سبب بعض ریاستوں میں اسکول دوبارہ کھلنا بھی ہے۔

امریکی ریاستوں جارجیا، انڈیانا اور بعض دیگر ریاستوں میں بہت سے اسکول کھلنے کے بعد دوبارہ بند کرنے پڑے کیوں کہ بڑی تعداد میں طلبہ کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ بچوں میں اگر علامات نہ بھی ہوں اور وہ بیمار نہ ہوں تو بھی وہ کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر نانا، نانی اور دادا، دادی کو ان سے وائرس لگ سکتا ہے۔

مائیکل اوسٹر ہوم 'یونیورسٹی آف منی سوٹا' میں متعدی امراض کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بچوں کے بارے میں یہ خیال کہ وہ بیمار نہیں ہوں گے یا کسی کو کرونا وائرس منتقل نہیں کریں گے، اب تبدیل ہو جانا چاہیے۔

ان کے بقول آئندہ کی منصوبہ بندی نئی صورتِ حال کے تحت کرنا ہو گی۔

ڈاکٹر خوشنود احمد 'یونیورسٹی آف ٹیکساس' میں کلینیکل پیڈیاٹرکس کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور چلڈرن میڈیکل سینٹر میں بچوں کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو بھی دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یکم مارچ سے 25 جولائی تک 14 امریکی ریاستوں میں ایک جائزے کے مطابق ہر ایک لاکھ میں سے صرف آٹھ بچوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا۔

ڈاکٹر خوشنود احمد
ڈاکٹر خوشنود احمد

ان کا کہنا تھا کہ 26 ممالک میں 131 مطالعوں کے مطابق ساڑھے سات ہزار بچوں میں سے 55 سے 60 فی صد بچوں میں کرونا وائرس کی علامتیں صرف کھانسی اور بخار کی صورت میں ظاہر ہوئیں جب کہ 19 فی صد میں کوئی علامت تھی ہی نہیں۔ مگر ان کا ٹیسٹ مثبت آیا۔

انہوں نے بتایا کہ بچوں میں اب بھی 'کاواساکی' نامی بیماری کی علامات پائی جاتی ہیں مگر بچے اس سے صحت یاب بھی ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن بچوں کے امراض کے ماہر اور نیویارک کے 'ہاف سٹرا یونیورسٹی میڈیکل اسکول' میں اسسٹنٹ کلینیکل پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نیویارک میں بچوں میں بہت ہی معمولی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں اور عام طور پر انہیں اسپتال میں داخل کرنے کی نوبت نہیں آئی۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن
ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن

انہوں نے بتایا کہ پہلے خیال تھا کہ بچے اپنے بڑوں کو بیمار کر سکتے ہیں مگر بعض بچوں کو یہ وائرس اپنے بڑوں سے لگا۔

انہوں نے بتایا کہ نیویارک میں بچوں میں 'کاواساکی' بیماری کے کیسز اب نہیں آ رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کا اسکول جانا بھی ضروری ہے اور انہیں بیماری سے بھی محفوظ رکھنا ہے۔ اس لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG