رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے دنوں میں سکون آور ادویات کا غلط استعمال


فائل فوٹو

ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس کی وباء کے دوران سکون آور ادویات یا اوپی آئیڈز کا استعمال بڑھ گیا ہے اور اسی سے متعلق اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

نومبر 2016 کی شام دفتر سے گھر پہنچنے تک ہاتھ کے ایک پرانے درد نے گویا مفلوج کر دیا تھا۔ گھبرا کر گھر میں رکھی ایک ایسی دوا کھالی جو انتہائی درد میں گھر کے کسی اور فرد کو کبھی اسپتال میں دی گئی تھی۔

آکسی کوڈان۔۔۔ایک گھنٹے کے اندر اندر ایسا لگا گویا پانی میں ڈوبنے سے موت واقع ہو رہی ہے۔ ایمبولینس کیلئے 911 کو کال کیا اور اسپتال کے راستے میں بار بار خود کو چھو کر دیکھا کہ کیا میں زندہ ہوں۔۔۔کیا واقعی میری موت واقع ہو رہی ہے۔۔۔مگر پھر سب ٹھیک ہو گیا۔۔۔میں آج بھی زندہ ہوں۔۔۔

پتا چلا، آکسی کوڈان ایک اوپی آئیڈ ہے۔۔۔نشہ آور دوا جو ڈاکٹر ہی جانتے ہیں کہ کسے لینی چاہئے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اس قبیل کی کئی دوائیں امریکہ میں لوگ نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کوویڈ 19 کے دنوں میں ان دواؤں کا استعمال اتنا بڑھا ہے کہ اس سے لوگوں کی موت بھی ہو گئی۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دواؤں کے عادی افراد کو مدد اور علاج فراہم کرنے والی تنظیمیں اس تشویش کا اظہار کر رہی ہیں کہ وبا کے دنوں میں بھی منشیات کا استعمال بند نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ان دواؤں کے استعمال کے باعث موت کا شکار ہونے والوں کی تعداد سن 2019 کے مقابلے میں اس سال دوگنی ہو گئی ہے۔

کرونا وائرس کے دنوں میں نشہ آورادویات کا استعمال
please wait

No media source currently available

0:00 0:14:27 0:00


ڈاکٹر فرخ قریشی ایک نیو رالوجسٹ ہیں اور مڈ ویسٹرن یونیورسٹی ایریزونا میں اسسٹنٹ پروفیسر۔ وہ کہتے ہیں کہ کوویڈ 19 کے دنوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔۔۔پریشانی حد سے بڑھی اور کوئی اور راستہ نہ پا کر بعض لوگوں نے ان نشہ آور دواؤں کا استعمال شروع کر دیا۔

وہ کہتے ہیں حالات اتنے غیر یقینی اور خوف اتنا زیادہ تھا کہ نشے کے عادی ایسے افراد بھی امدادی مراکز تک نہیں پہنچ پائے جو واقعی یہ نشہ چھوڑنا چاہتے تھے یا پہلے سے ان کا علاج ہو رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عام طور پر ایسے مریضوں کیلئے یہ دوائیں تجویز کرتے ہیں جن کی سرجری ہوئی ہو یا وہ کسی اور شدید درد میں مبتلا ہوں مگر لمبے عرصے تک ان دواؤں کا استعمال ان کا عادی بنا دیتا ہے۔ اسی لئے اب ڈاکٹر انہیں ہفتہ پندرہ دن سے زیادہ تجویز نہیں کرتے۔ مگر جو لوگ ان کے عادی ہیں وہ غیر قانونی طریقے سے بھی انہیں حاصل کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر فرخ قریشی کہتے ہیں، وبا کے دنوں میں بیشتر علاج آن لائن بھی کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن آن لائن علاج اور مدد کی سہولت تھی بھی تو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اس سے فائدہ نہیں حاصل کر پائے، کیونکہ ڈاکٹر قریشی کا کہنا ہے کہ ایسے عادی افراد اکثر کام نہیں کرتے اور ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اچھے فون اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کر سکیں۔

ڈاکٹر قریشی نے یہ بھی بتایا کہ کہ یہ نشہ آور اور سکون آور دوائیں دماغ کے اس حصے کو متاثر کرتی ہیں جس کا تعلق خوشی یا حض اٹھانے سے ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ لوگ پریشانی یا بیماری سے گھبرا کر یا یونہی شوق ہی شوق میں ان دواؤں کا استعمال شروع کرتے ہیں اور پھر ان کے عادی ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل کالج کے ڈین اور پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے ڈاکٹر قریشی کے خیالات کی تائید کی اور کہا کہ نشے کے عادی افراد ابتدا میں ایسا مسائل سے گھبرا کر یا محض صحبت سے مجبور ہو کر کرتے ہیں مگر پھر ہمیشہ کیلئے اس برائی کے شکنجے میں پھنس کر زندگی تباہ کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر آفریدی کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کے دنوں میں روزگار نہ ہونے اور دیگر مشکلات کی وجہ سے لوگوں میں اینگزائٹی اور ڈیپریشن بڑھا اور چونکہ اسپتالوں میں ایسے نفسیاتی مریضوں کے علاج کی سہولت زیادہ نہیں ہے تو اس سے نجات کیلئے انہوں نے منشیات کا استعمال شروع کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ڈائزی پام، لورازی پام اور آکسازی پام جیسی نیند آور اور سکون آور دوائیں میڈیکل سٹورز پر بآسانی دستیاب ہیں اور لوگ معمولی ذہنی پریشانی کیلئے بھی ان کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ اور ان کے مطابق ڈاکٹر بھی یہ دوائیں عام تجویز کرتے ہیں۔

ڈاکٹر آفریدی کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایسے مریضوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا جو نشے کے عادی ہو چکے تھے اور اس خیال سے کہ تمام لوگوں کیلئے کلینک تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے انہوں نے ہیپی نیس ڈاٹ کام کے نام سے آن لائن علاج کا سلسلہ شروع کیا مگر جلد ہی آؤٹ ڈور مریضوں سے اندازہ ہو گیا کہ زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ کی سہولت سے واقف نہیں ہیں۔ چنانچہ اب صرف فون کے ذریعے ایک ہیلپ لائن شروع کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں صرف ایسے چھ سو ماہرین نفسیات ہیں، جو ادویات کے ذریعے ڈپریشن اور دیگر ذہنی امراض کا علاج کرتے ہیں، جب کہ ضرورت کم از کم نو ہزار کی ہے۔

ڈاکٹر آفریدی کہتے ہیں نفسیاتی مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال میں گھر کے افراد کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر وہ دیکھیں کہ گھر کے کسی فرد میں خوف، گھبراہٹ، بے چینی، نیند کی کمی، کام میں عدم دلچسپی، سستی اور کاہلی پائی جا رہی ہے اور اس کی سوچ ، جذبات اور رویے میں فرق آ جائے تو پھر اسے کسی ذہنی امراض کے ماہر کو ضرور دکھانا چاہئے۔

ہمارے دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ نشے کی عادت چھوڑی جا سکتی ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ نشے کے عادی شخص کا ارادہ پختہ ہو، اسے گھر کے لوگوں کی مدد حاصل ہو اور وہ ایسے ادارے سے رجوع کرے جہاں اس کا مکمل علاج کیا جائے۔ ڈاکٹر فرخ قریشی نے کہا کہ ان کے اپنے کچھ مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر اقبال آفریدی کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو زندگی کی مصروفیات میں شریک کرنا ضروری ہے۔ انہیں سستی اور کاہلی سے نکال کر کام کا عادی بنانا ذہنی صحت کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ کام ضرورت بھی ہے اور عبادت بھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG