رسائی کے لنکس

امریکہ: ستمبر تک کرونا سے اموات دو لاکھ ہو جائیں گی، ماہرین کا انتباہ


ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکہ میں اس وقت کرونا سے متاثرین کی مجموعی تعداد 20لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور 11 جون تک اموات ایک لاکھ 15 ہزار سے بڑھ گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں حالیہ اضافہ لاک ڈاؤن کی نرمی کے بعد ہوا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے گلوبل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ اشیش جا نے بدھ کے روز نیوزچینل، سی این این کو بتایا کہ اگر امریکہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات نہ کیے گئے تو اموات میں اضافہ جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں چاہے کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے نہ آئیں اور چاہے صورت حال جوں کی توں رکھی جائے تو بھی قرین قیاس یہی ہے کہ ستمبر کے مہینے میں کسی وقت اموات کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی وبا ستمبر تک ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ میں اس لیے بھی فکرمند ہوں کہ یہ سب کچھ آئندہ چند ہفتوں اور مہینوں میں ہونے والا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض اور اموات امریکہ میں ہیں۔ اشیش جا نے کہا کہ اس کی وجہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر کنٹرول کیے بغیر لاک ڈاؤن کھولنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہوتا کہ لاک ڈاؤن اس وقت کھولا جاتا جب پازیٹو ٹیسٹنگ کی سطح 5 فی صد سے کم ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہلاکتوں پر کنٹرول کر سکتے تھے، اگر ہم ٹیسٹنگ کی سطح بڑھا دیتے اور اس پر نظر رکھتے کہ وائرس کہاں کہاں پھیل رہا ہے اور ہم سماجی فاصلے کی سختی سے پابندی کرتے اور بڑے پیمانے پر ماسک استعمال کرتے۔

اشیش جا اور کئی دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکام نے پابندیاں نرم کرنے میں جلد بازی کی ہے۔

کئی امریکی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کیے جانے کے بعد کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے، رائٹرز کے مطابق اتوار کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران نیو میکسیکو، یوٹا اور ایری زونا میں عالمی وبا کے کیسز میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ فلوریڈا اور ارکنسا میں بھی اس وبا کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرونا متاثرین کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ اس کی ٹیسٹنگ میں اضافہ ہے۔ گزشتہ جمعے کو ایک روز میں ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب ٹیسٹ کر کے ملک میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔

اضافے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤ ن کھلنے کے بعد لوگ کام کاج اور روزگار کے لیے گھروں سے باہر نکل رہے ہیں، اور بعض صورتوں میں حفاظتی تدابیر نظر انداز کی جا رہی ہیں، جس کی ایک مثال جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے ہیں۔

صحت کے حکام نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے مظاہروں میں شرکت کی ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اپنا کرونا ٹیسٹ کروا لیں۔ لیکن، نائب صدر مائیک پینس اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ''اس وقت میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ دو ہفتے قبل مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے ہم نے نئے کیسز کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا''۔

صحت کے حکام نے فاکس بزنس نیوز نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مظاہروں میں شرکت کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے اور وہ سماجی فاصلے کا خیال رکھ رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG