رسائی کے لنکس

logo-print

گزشتہ برس دنیا میں تشدد کے واقعات 14 کھرب ڈالر نگل گئے: رپورٹ


رپورٹ میں 2014ء میں شام کو سب سے کم پرامن ملک قرار دیا گیا جب کہ لیبیا بدترین بگڑتی ہوئی صورتحال کا شکار بتایا گیا۔

دنیا بھر میں گزشتہ سال تشدد، جنگ اور دیگر تنازعات کے باعث ہونے والے نقصانات کا اندازہ تقریباً 14.3 کھرب ڈالر لگایا گیا ہے جو کہ برازیل، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور برطانیہ کی مجموعی معیشت کے برابر بنتا ہے۔

یہ انکشاف آسٹریلیا میں قائم انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی طرف سے جاری کی گئی عالمی امن انڈیکس میں کیا گیا۔

بدھ کو اس رپورٹ میں کہا گیا کہ سب سے زیادہ اور سب سے کم پرامن خطوں کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی ہے جب کہ مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک مزید تشدد میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں 2014ء میں شام کو سب سے کم پرامن ملک قرار دیا گیا جب کہ لیبیا بدترین بگڑتی ہوئی صورتحال کا شکار بتایا گیا۔

انڈیکس میں شمال مغربی یورپ کا ملک آئس لینڈ بدستور دنیا کا پرامن ترین ملک ہے۔

انسٹیٹیوٹ کے بانی اسٹیو کیلیلیا نے خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کو بتایا کہ "ان نقصانات میں اضافہ تنازعات میں ہونے والے جانی نقصان، جن ملکوں میں یہ تنازعات جاری ہیں وہاں اقتصادی صورتحال اور بڑے پیمانے پر بے گھر ہونے والے افراد سے منسلک ہیں۔"

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یوکرین میں تنازع کے باوجود یورپی ملکوں میں امن کی صورتحال بہتر سطح پر ہے۔

لیکن عراق، شام، نائیجیریا، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں گزشتہ سال کی نسبت تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختلف تنازعات میں ڈرامائی شدت کے باعث ان میں مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور 2014ء میں ایک لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے جب کہ 2010ء میں تنازعات میں مرنے والوں کی تعداد 49000 تھی۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ دنیا کے شدید تشدد زدہ خطے بن گئے ہیں جب کہ 2013ء میں اس معاملے میں جنوبی ایشیا سرفہرست تھا۔

رپورٹ میں گنی بساؤ، آئیوری کوسٹ، مصر اور بینن میں امن کے حوالے سے قابل ذکر بہتری بتائی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG