رسائی کے لنکس

logo-print

کیا سعودی عرب کا دفاع قابلِ تسخیر ہے؟


فائل فوٹو

سعودی عرب اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار مغربی ملکوں سے خرید چکا ہے لیکن وہ ان ہتھیاروں سے گزشتہ ہفتے آئل تنصیبات پر ہونے والے حملے روکنے میں ناکام رہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے سعودی آئل فیلڈ پر ہونے والے حملوں پر ایک تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق، گزشتہ ہفتے سعودی آئل تنصیبات پر ہونے والے حملوں سے واضح ہوگیا کہ سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے کتنا تیار ہے۔

حالانکہ حالیہ حملوں سے قبل بھی یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب کی مختلف تنصیبات کو متعدد بار نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا چکی تھیں۔

’رائٹرز‘ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے ہوائی اڈے، آئل پمپنگ اسٹیشن اور شیبا آئل فیلڈ پر حملوں سے واضح ہو گیا کہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت قابلِ تسخیر ہے۔

ایک تھنک ٹینک ’سی ایس آئی ایس‘ کے مطابق مشرق وسطٰی میں ایران کے پاس جدید صلاحیتوں سے لیس بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں جو سعودی عرب کے دفاعی نظام کو با آسانی شکست دے سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہماری تنصیبات کھلی ہیں اور سعودی عرب کے پاس ان کی حفاظت کے لیے کوئی حقیقی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

ایرانی شاہد ڈرون 171 (فائل فوٹو)
ایرانی شاہد ڈرون 171 (فائل فوٹو)

ایک سعودی سیکورٹی تجزیہ کار نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ سعودی عرب کے لیے آئل تنصیبات پر حملے امریکہ کے 9/11 حملوں جیسے ہیں، جس کے بعد خطّے میں حالات تبدیل ہوجائیں گے۔

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالرز سے خریدے گئے فضائی دفاعی نظام اور جدید امریکی ہتھیار کہاں ہیں؟ جو ہم نے ریاست اور اس کی آئل تنصیبات کے تحفّظ کے لیے خریدے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے شہروں اور تنصیبات کی حفاظت کے لیے امریکی ساختہ طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والا دفاعی نظام استعمال ہوتا ہے۔

اسی نظام کی وجہ سے مارچ 2015 میں شروع ہونے والی یمن جنگ کے بعد سے اب تک حوثی باغیوں کے متعدد میزائل حملوں کو روکا جا چکا ہے۔

صمد 3 ڈرون (فائل فوٹو)
صمد 3 ڈرون (فائل فوٹو)

ڈرون اور کروز میزائل چونکہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں، لہٰذا ان کی بروقت تشخیص کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ایک سینئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی عراق اور یمن کے ساتھ لمبی سرحد ہے۔ ڈرون چونکہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اس لیے وہ سعودی عرب کے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں۔

آئل تنصیبات پر حملوں کی خاصی معلومات رکھنے والے ذرائع کے مطابق سعودی حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ان کے ریڈار نے ڈرون حملوں کو ظاہر کیا تھا یا نہیں۔

البتہ آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اتحادی فوج نے 230 سے زائد بیلسٹک میزائل حملے ناکام کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سعودی عرب کی حفاظت اور اسے لاحق خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیتیں موجود ہیں۔

سعودی عرب کے سیکورٹی ذرائع کے مطابق، ریاض کئی سالوں سے ممکنہ ڈرون حملوں سے آگاہ تھا اور ان سے بچاؤ کے لیے مشاورت بھی کی جا رہی تھی۔ لیکن حملوں سے بچاؤ کے لیے کوئی نئی ہتھیار نصب نہیں کیے گئے۔

واشنگٹن کی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی سے وابستہ ڈیو ڈیسروشز نے کہا ہے کہ ایئر ڈیفینس کے لیے روایتی ریڈار زیادہ تر بلندی پر پرواز کرنے والے میزائلوں سے نمٹنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ ڈرون اور کروز میزائل زمین سے کم فاصلے پر رہتے ہوئے پرواز کرتے ہیں۔ اس لیے وہ ان ریڈاروں میں نہیں آ پاتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG