رسائی کے لنکس

logo-print

'سعودی آئل تنصیبات پر حملے ایرانی سرزمین سے کیے گئے'


(فائل فوٹو)

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی آئل تنصیبات پر حملے جنوب مغربی ایران سے کیے گئے تھے۔ اس امریکی دعوے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے جاری تناؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تین امریکی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ان حملوں میں کروز میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے تھے۔

امریکی حکام کے بقول، شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر لگائے گئے اندازوں کے برعکس حملہ آوروں نے زیادہ جدید اور کار آمد ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

امریکی اہلکاروں نے اپنے اس دعوے کے حق میں نہ تو کوئی ثبوت پیش کیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ کن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ حملے ایرانی سرزمین سے کیے گئے تھے۔

دوسری جانب سعودی سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ سعودی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے اور ایرانی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت پیش کریں گے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے بین الاقوامی ماہرین کو تحقیقات میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

خیال رہے کہ ایران نے سعودی آئل تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ البتہ یمن میں ایران کے اتحادی حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حوثیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈرونز کے ذریعے یہ حملے کیے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سعودی آئل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو بھرپور جواب دینے کے لیے امریکہ مکمل تیار ہے۔ لیکن، ان کے بقول، وہ سعودی عرب سے سننا چاہتے ہیں کہ وہ حملے کا ذمہ دار کسے سمجھتا ہے۔

سعودی آئل تنصیبات پر حملے اور اس میں مبینہ طور پر ایران کے کردار سے متعلق منگل کو صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں میں ایران ملوث ہے۔ لیکن، امریکی صدر کے بقول، وہ اس موقع پر جنگ نہیں چاہتے۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور توانائی کے سیکریٹری ریک پیری سمیت صدر ٹرمپ کی کابینہ کے کئی ارکان ان حملوں کا الزام تہران پر لگا چکے ہیں۔

اُدھر ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ یہ حملے سعودی فوجی اتحاد کے درمیان یمن پر کیے جانے والے حملوں کا ردِ عمل ہیں اور یمنی عوام اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کر رہے ہیں۔

سعودی آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 19 فی صد تک اضافہ ہوا ہے جو کہ 91-1990 میں عراق کے کویت پر حملے سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد تیل کی قیمتوں میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک تیل کی رسد مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔

مائیک پومپیو کا دورہ سعودی عرب

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو بدھ کو سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور آئل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا جواب دینے سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکی وزارتِ دفاع کے حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ امریکی فرانزک ٹیم سعودی حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے اور حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی باقیات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG