رسائی کے لنکس

دنیا کے کئی ممالک میں کرونا ویکسین تقسیم کرنے کی تیاریاں


فائل فوٹو

دنیا کے مختلف ممالک نے اتوار سے کرونا وائرس ویکسین کی تقسیم کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ جرمنی اور امریکہ اگلے مہینے سے آبادی کے چند حصوں کو ویکسین دینے کا آغاز کر دیں گے۔

جرمنی کے وزیر صحت جینز سپاہن نے اتوار کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے لیے پرامید رہنا چاہیے کہ اس سال کے اختتام سے پہلے یورپ میں ویکسین کی منظوری دے دی جائے گی اور اس کی تقسیم فوری طور پر شروع ہو جائے گی۔

امریکہ میں ابتدائی منصوبے کے مطابق 12 دسمبر سے چند گروپس کو ویکسین کی خوراک دینے کا آغاز کر دیا جائے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) 10 دسمبر کو فائزر کی ویکسین کا جائزہ لے کر اس کی منظوری دے گی۔

خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمنی کمپنی 'بائیو این ٹیک' کے اشتراک سے تیار کی جانے والی کرونا ویکسین 90 فی صد مؤثر ثابت ہوئی تھی۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جی 20 سمٹ جن میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی نے اس بات کی حامی بھری کہ کرونا وائرس کی ویکسین غریب ترین اور کرونا وائرس سے سب سے زیادہ خطرے میں افراد تک پہلے پہنچائی جائے گی۔

امریکہ میں طبی عملہ جو کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ان گروہوں میں شامل ہے جن کو سب سے پہلے کرونا وائرس کی ویکسین دی جائے گی۔

برطانوی اخبار گارڈین اور کائزر ہیلتھ نیوز کی تحقیق کے مطابق امریکہ میں اب تک طبی عملے کے 1400 افراد کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی طبی عملہ نرسوں پر مشتمل تھا۔

رپورٹ کے مطابق طبی عملے کا ایک بڑا حصہ بیماری، ٹراما اور تھکن کا شکار ہے۔

ایک سرجیکل نرس نے 'گارڈین' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے پہلے دو ماہ میں اس نے اتنے مردوں کو باڈی بیگز میں پیک کیا جتنا اُنہوں نے گزشتہ 25 سالوں میں نہیں کیا تھا۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اتوار تک دنیا بھر میں پانچ کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

دنیا بھر میں امریکہ میں سب سے زیادہ افراد کرونا کا شکار ہوئے جن کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد ہے۔ بھارت میں 90 لاکھ اور برازیل میں 60 لاکھ افراد کرونا کا شکار ہوئے ہیں۔

دنیا بھر میں اب تک 13 لاکھ سے زائد افراد کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں یہ تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG