رسائی کے لنکس

logo-print

لڑائی جھگڑے سے بیزار، جوڑے نے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال لیں


الیگزینڈر کڈلی اوروکٹوریا پسٹوویٹووا (فوٹو رائٹرز)

یوکرین میں ایک جوڑے نے روز روز کے لڑائی جھگڑے سے تنگ آ کر انوکھا حل ڈھونڈا اور ایک دوسرے کے ہاتھوں کو ہتھکڑیوں میں باندھ دیا۔ اب وہ تین مہینے تک ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شئیر کر یں گے۔

آن لائین کار سیلزمین ایلگزینڈر کڈلے جن کی عمر 33 برس ہے اور بیوٹیشن وکٹوریا پسٹوویٹووا نے، جن کی عمر 28 برس ہے ،ان کے بقول اپنا یہ تجربہ ویلنٹائن ڈے سے شروع کیا اور اب تک ان کے انسٹاگرام پر ہزاروں فالوور بن چکے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایلگزینڈر نے کہا کہ جسمانی طور پر جوڑے کے لیے ہتھکڑیاں اب معمول بن گئیں ہیں۔ بقول ان کے ’’وقت کے ساتھ ساتھ یہ آسان ہو جاتا ہے۔‘‘

یوکرین کا یہ جوڑا ہر کام ایک ساتھ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (فوٹو، رائٹرز)
یوکرین کا یہ جوڑا ہر کام ایک ساتھ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (فوٹو، رائٹرز)

ایلگزینڈر کے بقول ان کو یہ خیال تب آیا جب ان کی گرل فرینڈ وکٹوریا نے ان سے تعلق ختم کرنے کا کہا۔

ان کے مطابق دونوں ہفتے میں ایک سے دو مرتبہ ایک دوسرے سے ناراض ہو کر بریک اپ کرتے تھے۔ اس بار جب دونوں میں تکرار ہوئی تو ان کی خاتون دوست نے دوبارہ سے بریک اپ کا عندیہ دیا۔ جس پر الیگزینڈر نے مسئلے کا کوئی حل نکالنے کا سوچا۔

وکٹوریا کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے تو ہتھکڑی پہننے کےخیال کو رد کر دیا اور جب الیگزینڈر نے یہ تجویز فون پر دی تو انہوں نے فون بند کر دیا۔ لیکن جلد ہی ان کا ذہن تبدیل ہو گیا۔

دونوں کو ہر کام ایک ساتھ کرتے ایک مہینے کا وقت ہو چکا ہے۔ گھر کے باہر سودا سلف لینے بھی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر جاتے ہیں۔

وکٹوریا کے بقول ’’میں نے سوچا کہ یہ ایک منفرد تجربہ ہو گا، اس سے میری زندگی میں خوشگوار تبدیلی آئے گی، جس کا شائد مجھے پہلے کبھی تجربہ نہیں رہا۔‘‘

اب یہ جوڑا اپنی ہتھکڑی بندھے ہاتھوں کی تصاویر انسٹاگرام پر لگاتا ہے اور ہر کام ساتھ کرنے کے تجربات کو انسٹا گرام پوسٹس میں قلم بند بھی کرتا ہے ۔ دونوں اپنی پوسٹس میں ایک دوسرے کے لیے احترام ، گنجائش اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ یہ جوڑا یوکرین کے ایک ٹیلی وژن شو میں بھی شرکت کر چکا ہے۔

جہاں تک ان کے رشتے کا معاملہ ہے تو بقول ان دونوں کے’’کچھ گڑبڑ تو ہوئی ہے۔‘‘ لیکن ان کے بقول، انہوں نے مسائل کو نئے سرے سے حل کرنا سیکھ لیا ہے۔

الیگزینڈر کے بقول ’’ہم دونوں اب بھی لڑتے ہیں مگر جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے اور ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پا رہے تو ہم دونوں خاموش ہو جاتے ہیں نہ کہ سامان باندھ کر باہر نکل جائیں۔‘‘

لوگوں کی جانب سے جو سوال کیے جا رہے ہیں وہ ملے جلے ہیں۔ جہاں لوگ اس خیال پر ناقدانہ نظر رکھ رہے ہیں تو وہیں کچھ لوگ اس تجربے کو خوبصورت قرار دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG