رسائی کے لنکس

logo-print

شاہی محل میں اتنا دباؤ تھا کہ خودکشی تک کا سوچا: میگھن


سابق برطانوی شہزادے ہیری کے بقول وہ محسوس کرتے ہیں کہ شاہی خاندان نے اُن کی اہلیہ میگھن کو سپورٹ نہیں کیا۔

برطانوی شہزادے ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل نے کہا ہے کہ شاہی خاندان کے ساتھ وقت گزارنا ناممکنات میں سے تھا۔ محل میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہوں نے اپنی زندگی خود اپنے ہاتھوں ختم کرنے کا بھی سوچا تھا۔

امریکی ٹی وی کی معروف میزبان اوپرا ونفری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شہزادہ ہیری اور اُن کی اہلیہ میگھن مارکل نے کئی تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

یہ انٹرویو چند روز قبل ریکارڈ کیا گیا تھا جسے امریکی ٹی وی چینل 'سی بی ایس' نے اتوار کو نشر کیا ہے۔ انٹرویو کے بعض کلپس پہلے ہی نشر کیے جا چکے تھے جس کے بعد شاہی خاندان سے جڑی خبروں میں دلچسپی رکھنے والے اس تفصیلی انٹرویو کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔

اپنے انٹرویو میں شہزادہ ہیری نے ونفری کو بتایا کہ وہ شاہی زندگی میں خود کو محصور محسوس کرتے تھے اور اُنہیں حیرت ہوئی جب انہیں معاشی طور پر تنہا کر دیا گیا۔

ہیری کے بقول وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ شاہی خاندان نے اُن کی اہلیہ کو سپورٹ نہیں کیا اور من گھڑت کہانیوں کے ذریعے اُن پر حملے کیے گئے۔

انٹرویو کے دوران میگھن نے بتایا کہ جب وہ پہلی مرتبہ ماں بننے والی تھیں تو محل میں اس بارے میں تشویش پائی جاتی تھی کہ اُن کا بیٹا جب پیدا ہو گا تو اس کی رنگت کتنی سیاہ ہوگی۔

ونفری نے انٹرویو کے دوران متعدد بار میگھن کے ذہن میں پلنے والے خیالات کے بارے میں سوال کیا اور ایک موقع پر پوچھا کہ ان کی ذہنی صحت پر اس تمام صورتِ حال کے کیا اثرات ہوئے؟ میگھن نے اس پر جواب دیا کہ انہوں نے اپنے ذہن میں خودکشی کے خیالات پنپتے محسوس کیے اور محل میں ہیومن ریسورس کے شعبے سے اس بارے میں مدد مانگی لیکن اُنہیں بتایا گیا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔

میگھن نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ انہیں خودکشی کے خیالات آتے تھے اور وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی تھیں۔
میگھن نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ انہیں خودکشی کے خیالات آتے تھے اور وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی تھیں۔

میگھن کے بقول، "میں یہ کہتے ہوئے بہت شرمندگی محسوس کر رہی تھی اور ہیری کے سامنے یہ اعتراف کرنے میں بھی شرمسار ہو رہی ہوں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔"

یاد رہے کہ ہیری اور میگھن کا شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد منظرِ عام پر آنے والا یہ پہلا انٹرویو ہے جو اس وقت دنیا بھر میں خبروں اور تبصروں کی زینت بنا ہوا ہے۔

دورانِ انٹرویو میگھن نے کہا کہ وہ اس ساری ذہنی کیفیت سے ایسے وقت میں گزر رہی تھیں جب اُن کے ہاں بچے کی ولادت ہونے والی تھی۔ اُن کے بقول انہیں اپنے بیٹے کی سلامتی اور تحفظ کی زیادہ فکر تھی۔

'باتوں کو راز رکھنا مشکل تھا'

میگھن نے کہا کہ ان کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل تھی کہ شاہی خاندان میں ان کے بیٹے کی رنگت پر اس قدر تشویش کیوں تھی۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے مشکل تھا کہ میں ان باتوں کو راز رکھتی۔

میگھن کے بقول اُنہیں اس پر بھی تشویش تھی کہ اُن کے بیٹے کو شاہی لقب نہیں ملے گا اور اس کا مطلب ہے کہ اُنہیں سیکیورٹی بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔

ہیری نے بھی اس موقع پر کہا کہ شاہی محل میں میگھن کے ساتھ جو سلوک ہوا اور ان کے اپنے خاندان کے ساتھ جس طرح کے تعلقات رہے، اس کے اثرات دور رس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنے والد (شہزادہ چارلس) کے ساتھ تعلقات میں خود کو بہت حقیر محسوس کیا۔ وہ بھی اسی طرح کے حالات سے گزرے ہوں گے۔ میں ہمیشہ ان سے محبت کروں گا لیکن بہت کچھ تکلیف دہ تھا جو گزر گیا۔"

ونفری کے ایک سوال کے جواب میں ہیری نے بتایا کہ اگر میگھن سے اُن کی شادی نہ ہوئی ہوتی تو شاید وہ کبھی بھی شاہی زندگی ترک نہ کر سکتے۔

ہیری کا کہنا تھا کہ وہ شاہی زندگی میں محصور ہو کر رہ گئے تھے اور تنہا کبھی اس زندگی سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ میگھن سے شادی نے شاہی خاندان کی زندگی پر پابندیوں کا راز اُن پر فاش کر دیا تھا۔

ہیری کے بقول، "مجھے شاہی زندگی سے باہر نکلنے کا راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ میرے والد چارلس اور بھائی ولیم اس زندگی کے اسیر ہو چکے ہیں۔"

ہیری نے اعتراف کیا کہ اس وقت ان کے اپنے بھائی شہزادہ ولیم کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں جو ان کے والد شہزادہ چارلس کے بعد تخت نشین ہوں گے۔

ہیری اور میگھن کی شادی مئی 2018 میں ہوئی اور ایک سال بعد اُن کے ہاں بیٹے آرچی کی ولادت ہوئی تھی۔
ہیری اور میگھن کی شادی مئی 2018 میں ہوئی اور ایک سال بعد اُن کے ہاں بیٹے آرچی کی ولادت ہوئی تھی۔

ہیری نے بتایا کہ شاہی خاندان نے اُنہیں 2020 کے اوائل میں اس وقت معاشی طور پر الگ تھلگ کر دیا تھا جب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے شاہی کردار سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔

ہیری کہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کی سیکیورٹی کا بوجھ اٹھانے کے قابل تھے کیوں کہ اُن کی والدہ شہزادی ڈیانا اُن کے لیے ڈھیر ساری رقم چھوڑ گئی تھیں۔

'دادی کو کبھی اندھیرے میں نہیں رکھا'

ہیری نے ان قیاس آرائیوں کی نفی کی جن میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے شعوری طور پر اپنی دادی ملکہ الزبتھ دوم کو اپنے الگ ہونے کے فیصلے سے بے خبر رکھا۔

البتہ انہوں نے اس شک کا اظہار کیا کہ ایسی افواہیں بھی کسی ادارے کی طرف سے آ رہی ہیں۔ ان کے بقول "میں نے کبھی اپنی دادی کو اندھیرے میں نہیں رکھا۔ میرے دل میں ان کے لیے بہت احترام ہے۔"

میگھن نے بھی اس موقع پر کہا کہ ملکہ کا ان کے ساتھ تعلق بہت شان دار رہا۔

اپنے اس انٹرویو میں میگھن نے وضاحت کی کہ وہ تین سال پہلے ہیری سے شادی کرنے سے قبل شاہی زندگی کے اصولوں کے بارے میں مکمل طور پر بے خبر تھیں۔

میگھن کے بقول وہ شاہی اصولوں سے ناواقف تھیں۔
میگھن کے بقول وہ شاہی اصولوں سے ناواقف تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ "مجھے مکمل طور پر پتا نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے۔ پہلی بار تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ملکہ کے سامنے کس طرح جھک کر سلام کرنا ہے اور مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ یہ کس قدر ضروری چیز ہے۔"

ہیری اور میگھن کی شادی مئی 2018 میں ونڈسر کے شاہی محل میں ہوئی تھی اور ایک سال بعد ان کے ہاں ان کے بیٹے آرچی کی ولادت ہوئی تھی۔

ہیری اور میگھن مارچ 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوگئے تھے۔ جوڑے کے بقول اس کی وجہ برطانوی میڈیا کا میگھن کے ساتھ نسل پرستی پر مبنی امتیازی رویہ تھا۔

انٹرویو کے شروع ہی میں اوپرا ونفری نے بتا دیا تھا کہ اس انٹرویو میں کسی بھی موضوع پر بات ہو سکتی ہے اور میگھن اور ہیری کو اس خصوصی انٹرویو کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔

برطانیہ میں اس انٹرویو کے وقت کو نامناسب خیال کیا جا رہا ہے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت نشر ہوا ہے جب ہیری کے 99 سالہ دادا پرنس فلپ لندن کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

برطانیہ کے شاہی خاندان نے تاحال اس انٹرویو پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ البتہ برطانوی اخبار 'سنڈے ٹائمز' نے نامعلوم ذرائع سے خبر دی ہے کہ ملکہ الزبتھ یہ انٹرویو نہیں دیکھیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG