رسائی کے لنکس

نیب ریفرنس: اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری


فائل

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اگر وزیر خزانہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق دائر نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی جس کے دوران صحافیوں کو کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔

سماعت شروع ہوئی تو جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پیش نہ ہونے پر استفسار کیا۔ جس پر وزیر خزانہ کے پرٹوکول افسر فضل داد نے عدالت کو بتایا کہ وہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے لندن میں ہیں، اس لیے پیش نہیں ہوسکے۔

عدالت نے پوچھا کہ وہ کب تک وطن واپس آئیں گے اور ان کی ذاتی مصروفیات کیا ہیں؟ اس پر پرٹوکول افسر نے بتایا کہ انہیں اس کا علم نہیں جس کے بعد عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی استدعا پر وزیر خزانہ کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

عدالت نے اسحاق ڈار کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور ایک شخصی ضمانت جمع کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اگر وزیر خزانہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

ریفرنس کی سماعت 25 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل بدھ کو جب سماعت شروع ہوئی تو صحافیوں کو اوپن کورٹ میں سماعت کی کوریج سے روک دیا گیا۔ رجسٹرار آفس نے انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ جج کے ساتھ 'آئی کانٹیکٹ' توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017ءکو پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تھا جب کہ نیب کو شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف چار ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر نیپ حکام کا چھاپہ

آمدن سے زائد اثاثوں کے خلاف نیب کے ریفرنس کا سامنا کرنے والے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا اور نیب نے وفاقی وزیراسحاق ڈارکے تما م اثاثے منجمند کر دیئے ہیں۔

نیب لاہور ککے ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف خاور الیاس کی طرف سے جاری ایک حکم نامہ کے مطابق اسحاق ڈار کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بھی منجمد کرلی گئی، جس کے بعد ان کی کوئی بھی جائیداد نہ خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو منتقل کی جا سکتی ہے۔

نیب نے اس حوالے سے تمام بینکوں، کمشنزز اور متعلقہ اتھارٹیز کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ نیب کے مطابق اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں تین سال کی قید ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی ٹیم عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے گرفتاری کا سمن لے کر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر پہنچی۔

نیب لاہور کی ٹیم نے منسٹرز انکلیو اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر پہنچی اور وہاں موجود ملازمین سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ان کے پاس اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری ہیں۔ نیب لاہور کی ٹیم نے گرفتاری کے احکامات اور تعمیلی سمن ملازمین سے وصول کرائے اور تلاشی لے کر اس بات کی تسلی کی کہ وزیر خزانہ گھر پر موجود نہیں ہیں۔

تاہم ترجمان نیب کی جانب سے بعد ازاں ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے گھر پر کوئی چھاپہ نہیں مارا گیا البتہ ان کی گرفتاری کے حوالے سے وارنٹ ان کے ملازمین کے حوالے کیے گئے ہیں، جبکہ طلبی کے سمن بھی ان کے ملازمین کو دیے گئے۔

اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر ریفرنس بنایا گیا ہے اور احتساب عدالت میں ان کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت میں پیش نہ ہونے پر احتساب عدالت کے جج نے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے 25ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG