رسائی کے لنکس

تانیہ قتل کیس: آئی جی سندھ کو خود تحقیقات کرنے کا حکم


سندھ ہائی کورٹ (فائل فوٹو)

دورانِ سماعت عدالت میں ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد اور ایس ایس پی جامشورو پیش ہوئے اور قتل کی تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

سندھ ہائی کورٹ نے ضلع جامشورو میں شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر ایک مقامی وڈیرے کے ہاتھوں قتل ہونے والی لڑکی کے اہل خانہ کو تحفظ فرہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود اس کیس کی تحقیقات کریں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منگل کو تانیہ نامی لڑکی کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی.

دورانِ سماعت عدالت میں ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد اور ایس ایس پی جامشورو پیش ہوئے اور قتل کی تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

پولیس افسران نے عدالت کو بتایا کہ اب تک مقدمے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جب کہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔

گرفتار دو ملزمان میں خان محمد اور مولا بخش شامل ہیں جنہیں حیدرآباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے آلۂ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

عدالت نے پولیس کو مقتولہ تانیہ کے اہلِ خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا مزید پیش رفت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد خادم رند کا کہنا تھا کہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ کیس کی تحقیقات آئی جی سندھ بذاتِ خود کریں۔

دوسری جانب مقتولہ کے ماموں نے کہا ہے کہ انہیں علاقے کے وڈیرے کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ مقدمہ واپس لیا جائے۔ لیکن انہیں عدالت سے امید ہے کہ انصاف ملے گا۔

پولیس کے مطابق تانیہ کو سندھ کے علاقے سہیون میں سات ستمبر کو اُس وقت قتل کردیا گیا تھا جب اس کے اہلِ خانہ نے اس کی شادی قتل کے ملزم خان محمد سے کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سندھ میں جاگیردارانہ نظام اور منفی قبائلی روایات کی جڑیں اب تک مضبوط ہونے کے باعث خواتین کی زبردستی شادی کی شکایات عام ہیں۔

گزشتہ دنوں کراچی میں بھی جرگے کے حکم پر پسند کی شادی کرنے والے لڑکا لڑکی کو بجلی کا کرنٹ لگا کر ہلاک کرنے کا واقعہ سامنے آیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG