رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی سے تمام خطرناک بل بورڈز ایک ماہ میں ہٹانے کا حکم


جسٹس امیر ہانی مسلم نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ تیز ہواوٴں کے سبب یہ بل بورڈ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اس لئے انہیں فوری طور پر ہٹا یا جائے۔

کراچی جیسے دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں جگہ جگہ بل بورڈز اور نیون سائن لگنا ایک عام بات ہے لیکن کراچی کے مختلف علاقوں میں یہی بل بورڈز انسانی جانوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ایسے ہی تمام خطرناک بل بورڈز کو سپریم کورٹ نے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ کے اندر اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ فٹ پاتھ، گرین بیلٹس، اوور ہیڈ برجز اور شاہراہوں پر نصب تمام بل بورڈز غیر قانونی ہیں۔

جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اورجسٹس خلجی عارف پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بل بورڈز ہٹانے سے متعلق مقدمے کی سماعت جمعے کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں کی۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ تیز ہواوٴں کے سبب یہ بل بورڈ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اس لئے انہیں فوری طور پر ہٹا یا جائے۔

کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن، کراچی کینٹونمنٹ بورڈ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی سمیت کئی ادارے اس مقدمے میں جواب دہ ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی روشن شیخ نے اپنے موقف میں کہا کہ شہر میں 20 سے زائد ادارے بل بورڈ لگانے کی اجازت دینے کے مجاز ہیں۔

فاضل عدالت نے اگلی سماعت پر چیف ایگزیکٹو کراچی کینٹونمنٹ بورڈ، چیف ایگزیکٹو کلفٹن، کورنگی، منوڑا، ملیر اور فیصل کینٹونمنٹ بورڈز کو پیش ہونے کا حکم بھی جاری کیا جبکہ ایم سی، ڈی ایم سیز، سول ایوی ایشن، اسٹیشن کمانڈر اور کمانڈر کراچی نیوی سمیت دیگر اداروں کو بھی عدالت کے رو برو پیش ہونے کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG