رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں تھانے اور مزید اختیارات دیے جائیں، رینجرز کی درخواست


شاہد انور باجوہ کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے ستمبر 2013ء سے مارچ 2016 کے دوران 5 ہزار 96 ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جس میں سے 83 بری ہوگئے، جبکہ 168 کو سزائیں ہوئیں اور ایک ہزار 156 ضمانتوں پر رہا کر دیئے گئے

سندھ رینجرز نے کراچی میں ’اپنے تھانے‘ بنانے، ایف آئی آر درج کرنے اور چالان پیش کرنے کا اختیار مانگ لیا ہے، جس کے جواب میں سپریم کورٹ نے چیف سکریٹری سندھ سے 10 مارچ تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سندھ حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ رینجرز کے تحفظات کا حل تلاش کریں۔

ہدایات سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں منگل کو کراچی بدامنی کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے جاری کیں۔

سماعت کے دوران آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی جمع کرائی۔ تاہم، فاضل عدالت نے اسے کاغذ کا بے جان ٹکڑا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں ٹارگٹ کلنگ سے جڑے اعداد و شمار کے علاوہ کچھ نہیں۔

اس سے قبل سندھ رینجرز نے کراچی میں ’اپنے تھانے‘ قائم کرنے، ایف آئی آر کے اندراج اور چالان پیش کرنے کے اختیارات کے لئے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوران سماعت رینجرز کے وکیل شاہد انور باجوہ نے سندھ رینجرز کی طرف سے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات اور کارروائیاں محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اگر دہشت گردی اور سنگین نوعیت کے جرائم میں سہولت کاروں، ثالث کاروں اور مالی مدد کرنے والوں کو گرفتار کرنے سے روکا جائے گا تو دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کیسے موثر ثابت ہوں گی!

ان کا کہنا تھا کہ اگر رینجرز کو تھانے بنانے سمیت دیگر اختیارات دے دیئے گئے تو شہر میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

شاہد انور باجوہ کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے ستمبر 2013 سے مارچ 2016 کے دوران 5 ہزار 96 ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جس میں سے 83 بری ہوگئے، جبکہ 168 کو سزائیں ہوئیں اور ایک ہزار 156 ضمانتوں پر رہا کر دیئے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث 1100 سے زائد ملزمان ناقص تفتیش کے باعث ضمانتوں پر رہا ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG