رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کے خلاف مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات برقرار


فائل فوٹو

عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک کی توسیع کرتے ہوئے انہیں اگلی سماعت پر طلب کرلیا ہے۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف درج چار مقدمات سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک کی توسیع کرتے ہوئے انہیں اگلی سماعت پر طلب کرلیا ہے۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے پیر کو تحریکِ انصاف کے 2014ء میں اسلام آباد میں دیے جانے والے دھرنے کے دوران درج مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کو چیلنج کرنے کی عمران خان کی درخواست کی سماعت کی۔

ان مقدمات میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں توڑ پھوڑ اور سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے دفتر پر حملے، پولیس افسر عصمت اللہ جونیجو کو مار پیٹ کر زخمی کرنے اور کارکنوں کو پولیس حراست سے زبردستی چھڑانے سمیت چار مقدمات شامل ہیں۔

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے مقدمات سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان نے لوگوں کو للکارا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین کے پاس ڈنڈے اور غلیل تھیں۔ مقدمے میں 50 سے 60 لوگوں پر الزام ہے لیکن پولیس نے 103 لوگ گرفتار کر لیے۔ عمران خان کو جس کیس میں سمن کیا گیا ہے وہ دہشت گردی کا مقدمہ نہیں۔ مقدمات میں کہیں بھی دہشت گردی کا عنصر نہیں ملا۔

بابر اعوان نے کہا کہ ایس ایس پی تشدد کیس کے 11 گواہوں میں کسی نے عمران خان کا نام نہیں لیا۔ حکومت کو خوفزدہ کرنا دہشت گردی ہے تو سارے ٹی وی چینل دہشت گرد ہیں۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ وہ بابر اعوان کے دلائل سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ سینیٹر رہ چکے ہیں اور اگر دہشت گردی ایکٹ میں کوئی خامی تھی تو وہ ترمیم لے آتے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ایک منتخب حکومت کو طاقت کے زور پر ہٹانے کے لیے لانگ مارچ کیا گیا جب کہ قانون ہاتھ میں لینا اور پولیس اہلکار پر تشدد بھی دہشت گردی ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے جس کی سزا عمر قید ہے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ کہ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ جرم ارادی طور پر نہیں کیا گیا جب کہ چاروں مقدمات میں وہ مرکزی ملزم ہیں۔ عمران خان لوگوں کو لے کر آئے اور اپنی تقریروں میں وزیراعظم، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو للکارا جس کی وجہ سے لوگ مشتعل ہوئے۔

وکیل نے بتایا کہ ملزمان سے کٹر، ڈنڈے اور غلیلیں برآمد ہوئی تھیں جبکہ مظاہرین نے پولیس افسر سے سرکاری پستول بھی چھینا تھا۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عارف علوی نے عمران خان کو فون کر کے بتایا کہ پی ٹی وی پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ عمران خان اسی شہر میں موجود تھے لیکن عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہوئے۔ وہ ساڑھے تین سال بعد عدالت آئے۔ عمران خان کو تو ضمانت بھی نہیں ملنی چاہیے۔

وکیلِ استغاثہ کے دلائل مکمل کرنے کے بعد بابر اعوان نے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صرف تقاریر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا جاسکتا۔ بیانات کی بنیاد پر دہشت گردی کے مقدمات بنانا ہیں تو وزرا پر بھی 2000 مقدمات بننے چاہئیں کیونکہ انہوں نے پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد عوام کو تشدد پر ابھارا۔ عارف علوی اور عمران خان کی آڈیو ٹیپ فراہم کی جائے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق عمران خان کی درخواست مسترد کردی۔

سماعت کے بعد عمران خان نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کا کام ریاست کے لیے کام کرنا ہے وہ حکمرانوں کے لیے کام کررہے ہیں۔ شریف خاندان نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ہم چور ہیں تو باقی سب بھی چور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سپریم کورٹ میں مجھ پر چلنے والا کیس اور پاناما کیس ایک جیسے ہیں جب لیکن ان مقدمات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مخالفین نے جان بوجھ کر ان پر دہشت گردی کے کیسز بنائے اور انہیں ڈرایا اور دھمکایا گیا کہ وہ ان کے بقول کرپٹ مافیا کا پیچھا چھوڑ دیں۔

پیپلز پارٹی سے اتحاد کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال پر عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی سے اتحاد نہیں ہوسکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG