رسائی کے لنکس

شریف خاندان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست مسترد


فائل

عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی نیب کی استدعا مسترد کردی اور استفسار کیا کہ نیب نے لندن پراپرٹی کا تو پتا لگالیا، مگر وہ رہتے کہاں ہیں، یہ آپ کو علم نہیں۔

پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو 26 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

شریف خاندان کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ، عزیزیہ اسٹیل ملز اور لندن جائیداد سے متعلق نیب کے دائر کردہ تین ریفرنسوں کی سماعت منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔

ریفرنس میں نامزد تمام افراد کی غیر حاضری کے باعث احتساب عدالت نے شریف خاندان کو 26 ستمبر کو دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کردیے۔

سماعت کے موقع پر شریف خاندان کا کوئی فرد عدالت میں پیش نہیں ہوا البتہ نواز شریف کے سیاسی مشیر سینیٹر آٖصف کرمانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

نیب کی جانب سے عدالت میں شریف خاندان کی طلبی کے سمن کی تعمیلی رپورٹ پیش کی گئی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شریف خاندان کے افراد نے سمن وصول ہی نہیں کیا۔

پراسکیوٹر کے بقول شریف خاندان کے سیکورٹی افسر محمد عارف کا کہنا تھا کہ حسن اور حسین نواز نے سمن وصول نہ کرنے کی ہدایات دے رکھی ہیں لہذا پراسیکیوٹرز کو جاتی عمرہ اور ماڈل ٹاؤن میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

اس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ آپ نے سمن کس کو دیا؟

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے سمن گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکار کے حوالے کیے جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ انہوں نے ملزمان کے سمن جاری کیے تھے، سیکیورٹی افسر کے نہیں۔

جج نے کہا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا کہ سمن سیکیورٹی افسر کو دے آئیں۔ ملزمان کو اطلاع تو میڈیا کے ذریعے بھی ہوجاتی ہے۔

عدالت نے نیب پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کو ملزمان کا لندن کا ایڈریس مل سکتا ہے؟ اگر سمن سکیورٹی انچارج کو دیے گئے تو اس کا بیان بھی ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ کرمنل کورٹ ہے، سول کورٹ نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے جج سے استدعا کی کہ عدالت شریف خاندان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ نیب پراسیکیوٹر وارنٹ گرفتاری بھی جاتی عمرہ کے گارڈز کو دے آئیں گے۔

عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی نیب کی استدعا مسترد کردی اور استفسار کیا کہ نیب نے لندن پراپرٹی کا تو پتا لگالیا، مگر وہ رہتے کہاں ہیں، یہ آپ کو علم نہیں۔

احتساب عدالت کے جج نے نیب پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی کہ اگر شریف خاندان کو طلبی کا نوٹس لندن کے پتے پر بھی بھیجنا پڑے تو بھیجا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے شریف خاندان کو 26 ستمبر کے لیے دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ سینیٹر آصف کرمانی بھی شریف فیملی کو عدالت میں طلبی کے سمن سے آگاہ کریں گے۔

اس سے قبل منگل کو سماعت کے آغاز پر نیب نے عدالت سے میڈیا کے نمائندوں کو کمرۂ عدالت سے باہر نکالنے کی استدعا کی جو فاضل جج نے یہ کہہ کر مسترد کردی کہ یہ اوپن کورٹ ہے جس میں صحافیوں پر پابندی عائد نہیں کرسکتے۔

سماعت کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر آصف کرمانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کو نوٹس موصول ہوئے ہیں تاہم حسن اور حسین نواز رائے ونڈ کے رہائشی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ بیگم کلثوم نواز علیل ہیں اور ان کی تیمارداری کے لیے شریف خاندان لندن میں موجود ہے۔ لیگی رہنما کے مطابق کلثوم نواز کی تیسری سرجری ایک، دو روز میں متوقع ہے۔

آصف کرمانی کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے انہیں طلبی کے سمن سے شریف خاندان کو آگاہ کرنے کا کہا ہے اور وہ ایسا کردیں گے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) محمد صفدر اس پیشی سے ایک روز قبل ہی لندن روانہ ہوگئے تھے جبکہ نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے دیگر افراد پہلے سے ہی کلثوم نواز کے ساتھ لندن میں موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG