رسائی کے لنکس

logo-print

عدالتیں، نواز شریف اور ریلیف


فائل فوٹو

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ لاہور سے لندن پہنچ چکے ہیں۔

نواز شریف کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دینے سے متعلق پاکستان کے مختلف حلقوں میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کیا نواز شریف کو عدالتوں سے ریلیف مل جاتا ہے یا عدالتیں نواز شریف کو ریلیف دے دیتی ہیں؟

اِس موضوع پر معروف قانون دان اور سابق وفاقی وزیرِ قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کی رائے جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے قہقہہ لگا کر کہا کہ “ہی اِز دا کنگ” یعنی وہ بادشاہ ہیں۔

پھر ذرا توقف کر کے بولے کہ آپ نے ایک ایسا موضوع منتحب کیا ہے جس پر تبصرہ کرنے اور توہین عدالت میں بہت باریک سا فاصلہ ہے۔

بطور قانونی ماہر ڈاکٹر خالد رانجھا سمجھتے ہیں کہ اگر عدلیہ کے بارے میں ایسا تاثر پیدا ہو جائے کہ عدلیہ حکومت، کسی شخصیت یا کسی ایک جماعت کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے، تو پھر اُن کے بقول، عدلیہ، عدلیہ نہیں رہتی۔ اس لیے ایسا تاثر بالکل نہیں ہونا چاہیے۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف لندن روانہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:10 0:00

ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو عدالتوں سے ریلیف ملنے کی دو وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ ان کے پاس قانونی ماہرین کی بہت اچھی ٹیم ہے وہ ایسے وکلاء کا انتخاب کرتے ہیں جو اپنے کام پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ دوئم یہ کہ وہ بہت عرصے حکومت میں رہے ہیں اور ججوں کی تعیناتی میں بھی اُن کا کردار رہا ہے۔

ان کے بقول، “ کیا عدالتیں بھی نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں؟ یہ کہنا بہت مشکل ہوگا، بلکہ توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن، عمومی تاثر یہی ہے کہ میاں صاحب کو عدالتوں سے ریلیف مل جاتا ہے اور شاید میاں صاحب کے لیے عدلیہ کے ساتھ کام کرنا آسان ہے۔”

'سزا بھی تو عدلیہ نے ہی دی'۔ سینئیر صحافی سہیل وڑائچ

تجزیہ کار، سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ ڈاکٹر خالد رانجھا کی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو عدالتوں سے ریلیف کبھی مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔ انہیں پاکستانی عدالتوں نے نواز شریف کو سزا بھی دی ہے تو اِس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمیشہ عدالتوں سے سابق وزیر اعظم کو ریلیف ملا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ جس احتساب عدالت نے سزا دی، سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا۔ یہ سب بھی تو عدالتوں نے ہی سزائیں دی ہیں۔ یہ تاثر اِس سے پہلے کا تھا۔ لیکن اَب یہ تاثر بدل چکا ہے۔ عدالتیں سزا بھی دیتی ہیں جزا بھی دیتی ہیں۔ ریلیف بھی دیتی ہیں اور جیل بھی دیتی ہیں۔

سہیل وڑائچ کے بقول، “عین جب وہ وزیر اعظم تھے انہیں نااہل کیوں قرار دیا گیا، انہیں سزائیں کیوں دی گئیں اُن کو اقتدار سے ہٹنا پڑا۔ اُن کو استعفٰی دینا پڑا۔ یہ تاثر پہلے تو ہو سکتا ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ پہلے حکومت کی بہت ساری باتیں مانی گئیں ہیں۔ نواز شریف کو جیل جانا پڑا، مریم کو بھی جیل جانا پڑا۔ مریم کی کئی درخواستیں عدالت میں منظور نہیں ہوئیں۔ حمزہ شہباز بھی جیل میں ہیں”۔

سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ عدلیہ بدل چکی ہے۔ عدالتوں کا پانچ سات سال پہلے تک تو نواز شریف کے لیے نرم رویہ ہو سکا ہے مگر اب یہ بدل چکا ہے۔ عدالتیں نے ہی انہیں نااہل قرار دیا ہے، انہیں سزا دی ہیں، اُن کے خاندان کو جرمانے کیے ہیں اور جیل بھیجا ہے۔

کیا پاکستان کی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے؟ اس سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا “ آزاد کا مطلب ہوتا ہے، تعصبات سے بھی آزاد ہونا۔ بطور معاشرہ ابھی ہم بہت سارے تعصبات ، اور بہت سارے دباؤ سے نہیں نکل سکے اور عدلیہ بھی ظاہر ہے اسی معاشرے کا حصہ ہے کہ دباؤ بھی عدلیہ پر پڑتا ہوگا اور تعصبات بھی ہونگے۔ عدلیہ کوئی الگ تھلگ ادارہ نہیں ہو سکتی”۔

اکتوبر 2019 میں کیا ہوا؟

رواں سال اکتوبر میں نیب لاہور کی حراست کے دوران نواز شریف کو طبیعت خراب ہونے پر سروسز اسپتال لاہور لایا گیا۔ دوران علاج سرکاری ڈاکٹروں کی ٹیم نے اُن کا علاج بیرون ملک کرانے کی تجویز دی، جس کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اُن کے چھوٹے بھائی شہباز شریف متحرک ہوئے۔

ماہ اکتوبر ہی میں عدالت عالیہ لاہور نے چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کو ضمانت دے دی، جبکہ ماہ نومبر میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزہ ملز ریفرینس میں نواز شریف کی سزا آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی۔

اِن ضمانتوں کے باوجود حکومتی شرائط کے باعث، نواز شریف علاج کے لیے ملک سے باہر نہ جا سکے، جس پر شہباز شریف نے دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور غیر مشروط طور پر نواز شریف کو پاکستان سے باہر جانے کی استدعا کی۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے حکومتی شرائط کو معطل کرتے ہوئے چار ہفتوں کے لیے نواز شریف کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔

نواز شریف، توہین عدالت کیس اور عدلیہ بحالی تحریک

ماضی میں نواز شریف کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے مختلف نوعیت کی عدالتی کارروائیوں کا سامنا رہا اور ان میں سے تین مقدمات میں انھیں سزا بھی ہوئی۔ نواز شریف کے بطور وزیر اعظم دوسرے دور میں عدالت عظمٰی پر حملہ ہوا بلکہ اِنہیں توہینِ عدالت کے سلسلے میں سپریم کورٹ پیش بھی ہونا پڑا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں نواز شریف نے حزب اختلاف کے رہنما کے طور پر عدلیہ بحالی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈکٹیشن نہیں لوں گا:
نواز شریف کی بطور وزیر اعظم پہلی مدت اُس وقت اچانک ختم ہوئی جب صدر غلام اسحٰق خان نے اٹھاون ٹو۔بی کے تحت 18 اپریل سنہ 1999ء میں قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا اور نواز شریف کی حکومت کو ختم کر دیا۔ اِس فیصلے پر نواز شریف زبانی طور پر تو خاموش ہو گئے۔ لیکن صدراتی فیصلے کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ کم و بیش ایک ماہ بعد چھبیس مئی سنہ 1993ء سپریم کورٹ کے جج جسٹس سجاد علی شاہ نے صدارتی حکم غیر آئینی قرار دیتے ہوئے میں نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا۔ اقتدار میں واپس آنے پر نواز شریف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لینگے۔

نوے کی دہائی، نواز شریف اور عدالتیں:
ماضی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سب سے پہلی کارروائی 25 سال قبل محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ہوئی۔ بی بی شہید کے بطور وزیر اعظم ہوتے ہوئے اکتوبر سنہ 1994ء میں ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف رمضان شوگر ملز کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی۔ اس کیس میں شریف خاندان پر رقم کی خوردبرد اور اختیارات کے غلط استعمال کا الزام تھا، جس کی تفتیش سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کی تھی۔
اِسی سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حدیبیہ پیپر ملز اور حدیبیہ انجنیئرنگ کمپنی کے خلاف خصوصی عدالت میں چالان جمع کرایا، جس میں نواز شریف پر دھوکہ دہی اور رقم خورد برد کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔
اِن مقدمات کے قائم ہونے کے تین سال بعد جون سنہ 1997ء میں جب نواز شریف دوسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں ان دونوں مقدمات سے متعلق رٹ پٹیشنز دائر کیں، جس میں استدعا کی گئی کہ ایف آئی اے کے دونوں چالانوں کو خارج کیا جائے۔

مشرف دور کے نیب ریفرینس:
سنہ 1997ء میں جب نواز شریف نے دو تہائی اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ وزارت عظمٰی کے عہدے پر براجمان ہوئے تو بظاہر لگتا تھا کہ اتنی بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے کے باعث اِن کے سیاسی مخالفین نواز شریف کا اب کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے اڑھائی سال بعد ہی اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر سنہ 1999ء میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کرتے ہوئے نواز شریف کے خلاف بدعنوانی اور دہشت گردی کے مختلف مقدمات درج کرائے۔
قومی احتساب بیورو نے سنہ 1999ء اور سنہ 2000ء کے اوائل میں نواز شریف کے خلاف کل 28 مقدمات قائم کیے۔ جن میں سے پندرہ مقدمات ناکافی شواہد کی وجہ سے اگلے چار برسوں میں خارج ہو گئے، جبکہ کچھ مقدمات 19 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک زیرِ تفتیش ہیں۔
نیب کی جانب سے قائم کیے گئے مقدمات میں سے چار ریفرینسز احتساب عدالت کو بھیجے گئے تھے، جن میں سے روس سے ہیلی کاپٹر خریدنے کا کیس ریفرینس اٹک قلعے میں قائم احتساب عدالت میں سنا گیا۔ احتساب عدالت کے جج فرخ لطیف نے نواز شریف کو سنہ 1993ء چھ لاکھ پاونڈ مالیت کے ہیلی کاپٹر خریدنے پر ٹیکس نہ دینے اور اثاثے ظاہر نہ کرنے کے جرم میں 14 سال قید کی سزا اور دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ نواز شریف نے اس سزا کے چھ ماہ اٹک جیل میں گزارے۔ دسمبر سنہ 2000ء میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے معافی دیے جانے پر وہ پاکستان چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے اور جلا وطنی کی زندگی گزارنا شروع کر دی۔

حدیبیہ ریفریرنسز:
سنہ 2000ء میں اُس وقت کے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ابتدائی ریفرینس میں نواز شریف کا نام اِس ریفرینس میں شامل نہیں تھا۔ لیکن نیب کے اگلے چئیرمین خالد مقبول نے حتمی ریفرینس کی منظوری دی تو ملزمان میں نواز شریف کے علاوہ ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز شریف اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل تھے۔ یہ ریفرینس اُس وقت کے پاکستانی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے بیان پر قائم کیا گیا تھا۔ اِس ریفرینس میں نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔ اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔

اتفاق فاؤنڈری کیس:
اس مقدمے میں نیب نے شریف خاندان پر مختلف بینکوں کے تین ارب اسی کروڑ روپے کے قرضوں کی عدم ادائیگی کا الزام لگایا تھا۔ نیب کے مطابق، شریف خاندان نے قرضوں کی واپسی سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر اتفاق فاؤنڈری کو دیوالیہ ظاہر کیا۔ اتفاق فاؤنڈری کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کی بینکوں کو ادائیگی کے بعد یہ مقدمہ فروری سنہ 2015ء میں لاہور ہائی کورٹ نے ختم کر دیا تھا۔

رائیونڈ اسٹیٹ کیس:
اس کیس کے مطابق، جاتی امرا میں 401 کنال اراضی پر سنہ 1992ء سے لے کر سنہ 1999ء تک شریف خاندان کی رہائش گاہ اور دیگر عمارات کی تعمیر غیر قانونی طریقے سے کی گئی تھی۔ اس میں نواز شریف اور ان کی والدہ شمیم اختر ملزمان تھے۔ کیس کے ریفرینس میں نواز شریف پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے ان تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے جو رقم ادا کی وہ ان کے ظاہر کردہ اثاثوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ اراضی کیس ریفرینسز کی سماعت نواز شریف کی ملک بدری کے بعد روک دی گئی تھی۔ نواز شریف کے سنہ 2013ء میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر لاہور ہائی کورٹ نے مارچ سنہ 2014ء میں یہ دونوں مقدمات خارج کر دیے۔ نیب نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے اِن دونوں کیسوں کے خلاف عدالت عظمٰی میں کوئی اپیل دائر نہیں کی۔

طیارہ سازش کیس:
نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی جنرل پرویز مشرف کے دور میں اِن کے خلاف بنائے جانے والے مقدمات میں سب سے اہم کیس طیارہ سازش کیس تھا۔ منتخب حکومت کو برطرف کرنے والے جرنیل نے نواز شریف پر دہشت گردی، قتل کی سازش، ہائی جیکنگ اور اغوا کرنے کے الزامات عائد کیے۔ جنوری سنہ 2000ء میں کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس کیس کی سماعت شروع کی اور اپریل سنہ 2000ء میں جج رحمت حسین جعفری نے نواز شریف کو چار میں سے دو الزامات، ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ رحمت حسین جعفری کو بعد ازاں ہائیکورٹ کا جج بھی بنایا گیا۔
دسمبر سنہ 2000ء میں اُس وقت کے سعودی عرب کے بادشاہ اور لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کی درخواست پر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف اور ان کے خاندان کو دس سالہ جلاوطنی کی شرط پر معافی دی۔ اس معافی کے بعد نواز شریف اِن کے بھائی شہباز شریف اور خاندان کے دیگر ارکان نومبر سنہ 2000ء تک سعودی عرب میں مقیم رہے۔

پانامہ کیس:
تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد بھی نواز شریف کو وزارت عظمٰی کی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وزیر اعظم رہتے ہوئے عدالت عظمٰی نے اُن کے خلاف فیصلہ سنایا۔ 28 جولائی سنہ 2017ء کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر احتساب عدالت اسلام آباد نے نواز شریف کو العزیزیہ ملز ریفرینس میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ وزارت عظمٰی سے نااہلی کے بعد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کم و بیش اسی مرتبہ احتساب عدالت اسلام آباد میں سماعت کے لیے پیش ہوئے۔ اِسی کیس میں عدالت سے غیر حاضری پر نواز شریف کے دونوں صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG