رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا بحران میں کتاب دوستی کا رجحان


ابوالحسن نغمی, سوسائٹی آف اردو لٹریچر کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے (فائل)

کرونا بحران نے جہاں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں وہاں اطلاعات تک رسائی اور کتاب دوستی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔

امریکہ کے بڑے اخبارات اور جریدوں نے ایسی کتابوں کی فہرستیں شائع کی ہیں جنہیں گھروں میں محصور لوگ موجودہ حالات کے پیش نظر پڑھ سکتے ہیں یا پڑھ رہے ہیں۔ ان کتابوں میں تاریخ، سائنس، فکشن، ادبی شاہکار اور صحت عامہ سے متعلق معلوماتی کتابیں شامل ہیں۔

مغربی ممالک میں بہت سے قارئین اس بات میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں کہ شیکسپیئر جیسے دنیا کے بڑے شاعروں اور ادیبوں نے اپنی زندگیوں میں وبائی مشکلات سے کیسے نمٹا۔

لیکن، کتاب کا مستقبل کیا ہے؟ کیونکہ، کرونا وائرس نے دنیا کو ایسے وقت میں ایک کڑے امتحان میں ڈالا ہے جب بہت سے ممالک میں کتابی صنعت کو مختلف مسائل کا سامنا ہے؟

موجودہ حالات میں ایک طرف تو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور میں لوگوں کی توجہ میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر منقسم نظر آتی ہے اور دوسری طرف مصنفین کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اور قارئین کو ان خیالات تک رسائی کے مختلف مواقع بھی میسر ہیں۔

خصوصاً نئی نسل انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم اور معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی طرف زیادہ مائل ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکہ اور بہت سارے دوسرے ممالک میں تعلیمی اداروں کا کوڈ نائنٹین بحران کے دوران ان کا تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار ہے۔

اس سلسلے میں مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے وائس آف امریکہ نے پاکستانی امریکی ادیبوں اور ماہر لسانیات سے بات کی۔

ابوالحسن نغمی، جو واشنگٹن میں قائم سوسائٹی آف اردو لٹریچر کے بانی ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ چونکہ مختلف لوگ مختلف شخصیات کے مالک ہیں اور ان کے انتخاب میں بھی تنوع ہے اس لئے اس بحران کے دوران لوگ بہت سے مختلف موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ہرچند کہ لوگوں کی توجہ موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل پر مرتب ہونے والے اثرات پر ہے؛ لوگوں کے کتابوں کے پڑھنے اور اطلاعات تک رسائی کے محرکات بھی مختلف ہیں۔ کچھ لوگ الف لیلہ یا امراؤ جان جیسے کلاسیکی ادب کو پڑھنا چاہیں گے اور کچھ لوگ ان پیچیدہ حالات میں تزکیہ نفس کے لیے ماضی میں ہونے والے ایسے بحرانوں کے متعلق جاننا چاہیتے ہیں۔

لیکن، انھوں نے بتایا کہ عصر حاضر میں لکھے ہوئے لفظ کی بجائے لوگ ملٹی میڈیا کو علم کے حصول یا لطف اندوز ہونے کے لیے ایک سہل راستہ سمجھتے ہیں۔

ان کے مطابق، بہت سے لوگ شاعری کی طرف بھی رخ کرتے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں شاعری تہذیب اور تمدن کا ایک اہم اظہار ہے۔ بہت سے لوگ شاعری پڑھنے کے علاوہ شعروں میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنی نثر کو بھی مقدم اور اور محفوظ کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر منظور اعجاز پنجابی زبان و ادب کے ماہر خیال کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ تمام قارئین کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن، ان کے حلقہ احباب میں آج کل زیادہ تر لوگ کلاسیکی ادب پڑھ رہے ہیں۔ بقول ان کے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں لوگ اپنے آپ کو ازسرنو دریافت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا ایک طرف لوگوں کو کتابوں سے دور کر رہا ہے تو دوسری طرف ادبی حلقوں کو ایک دوسرے سے جوڑ بھی رہا ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ کے ذریعے وہ بہت سی ادبی شخصیات اور ادب کے طالب علموں سے رابطے میں ہیں، جو کہ پہلے ممکن نہ تھا۔

ڈاکٹر منظور اعجاز کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور پنجابی کلاسیکی نظموں کی تشریح کے نامور ماہر خیال کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ایک فطری بات ہے کہ لوگوں کے لیے کسی کتاب نظم یا کہانی کو یوٹیوب ویب پر دیکھنا یا اس کو سننا پڑھنے کے مقابلے میں آسان عمل ہے۔ اور یہ امر دلچسپ ہو گا کہ اس موضوع پر تحقیق کی جائے کہ کتاب اور ملٹی میڈیا کیسے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کا بڑھتا ہوا استعمال کتاب کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہوگا۔

فریدہ حق انگریزی زبان میں شاعری کرتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ پینٹنگ کے فن سے خصوصی لگاؤ رکھتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ اس وقت ذہنی کوفت، اضطراب اور برہمی کی سی کیفیت میں ہیں، کیونکہ حالات ان کے بنائے ہوئے منصوبوں کے برعکس ہیں۔ ایسے میں وہ اپنے خیالات و احساسات کا اظہار سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔

فریدہ، جو کووڈ نائنٹین مرض کا مقابلہ بھی کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس میں مبتلا ہونے کے بعد انہوں نے بہت سی سائنس فکشن کی کتابیں پڑھی ہیں، کیونکہ ایسے حالات میں مسلسل خبروں کی طرف متوجہ رہنا یا خوف کی کیفیت سوار کرنا نقصان دہ ہوتا ہے۔

ایک شاعرہ کی حیثیت سے، انہوں نے کہا کہ وہ شعر و شاعری کی بہت سی کتابیں پڑھ رہی ہیں، تاکہ اس بحران میں ان کا ازسرنو مطلب سمجھا جائے۔
خاص طور پر انہوں نے کہا کہ فطرت سے لگاؤ سے انھیں بہت دلی تسکین ملتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ''میں چاہوں گی کہ والدین معمول کی زندگی کے اس وقفے میں اپنے بچوں کو ماحولیات اور ماحول سے متعلقہ چیلنجز کے بارے میں ضرور بتائیں، کیونکہ ان مسائل کا تعلق ہماری زمین، یعنی ہمارے گھر سے ہے''۔

کولمبیا کے ناول نگار، گیبریل گارسیہ مارکیز کے شہرہ آفاق ناول 'لو ان دی ٹائم آف کالرا' کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بیچینی اور تذبذب کے اس دور میں یہ ضروری ہے کہ ہم محبت اور محبت کے پیغام کی اہمیت کو اجاگر کریں۔

فریدہ حق کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ ایک ملا جلا رجحان ہے۔ لیکن، لوگوں کو سوشل میڈیا پر مختصر بات کرنے کو کتاب پڑھنے اور سمجھنے کا نعم البدل نہیں تصور کیا جانا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG