رسائی کے لنکس

وائرس کی ویکسین بن بھی جائے تب بھی سماجی چیلنج باقی رہے گا؟


ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب نہیں ہو جاتی، معیشت مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتی۔ لیکن، جب ویکسین تیار ہو بھی جائے تب بھی، رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق، ایک چوتھائی سے لے کر تین میں سے ایک امریکی ویکسین لگانے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک دوہرا چیلنج ہے۔ وبا کا خاتمہ لانے اور لوگوں کو پھر سے کام کاج میں مشغول کرنا نہ صرف ایک طبی چیلنج ہے، بلکہ یہ ایک سماجی چیلنج کی سی صورت اختیار کر چکا ہے۔

ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ایسے میں جب طبی معاملات حل کرنے کی غرض سے اربوں ڈالر مختص کیے جا رہے ہیں، سماجی الجھنیں دور کرنے کی جانب کوئی توجہ مبذول نہیں کی جا رہی۔

جانز ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے محکمے میں علم بشریات کے شعبہ ثقافت سے وابستہ ایک سینئر دانشور اور اس رپورٹ کی معاون مصنفہ، مونیکا سوک سپانا نے کہا ہے کہ ''آپ کو محض ایک کامیاب طبی آزمائش کے نتیجے میں تیار ہونے والی ویکسین پر اکتفا نہیں کرنا، بلکہ ہمیں سماجی طور پر قابل قبول ویکسین بنانی ہے''۔

سوک سپانا نے کہا کہ سائنس دان کوویڈ 19 کے علاج کے لیے فقید المثال تیزی کے ساتھ ایک محفوظ اور مؤثر ویکسین تیار کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن، انسانی سوچ کے دھارے کو ذہن نشین کرنے کے حوالے سے کوتاہی برتی جا رہی ہے۔

اس لیے، بشمول ان کے، رپورٹ کے 22 مصنفین کا کہنا ہے کہ دھیان دینے کہ بات یہ ہے کہ اس کا مداوا کیسے ہو؟ مصنفین میں وبائی امراض، ویکسین تیار کرنے والے اور سماجی سائنس دان شامل ہیں۔

بقول ان کے '' شدید خدشات اور درپیش سماجی ماحول کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ ضروری اقدامات کیے جائیں''۔

'نیشنل اڈلٹ اور انفلوئنزا امیونائزیشن' کے سربراہ اجلاس کے شریک چیئرمین، ایل جے ٹین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے مخالفین کوشاں ہیں کہ ویکسین مخالف تحریک کامیاب ہو، جس کے لیے وہ ہر طرح کے حربے آزما رہے ہیں۔ اس کی زیادہ تر وجہ سیاسی نوعیت کی ہے۔ 'نیشنل اڈلٹ اور انفلوئنزا امیونائزیشن' سے وابستہ حضرات کا تعلق ویکسین کے حق میں کام کرنے والے سرکاری اور نجی اداروں کے اتحاد سے ہے۔

سوک سپانا کا کہنا ہے کہ ساتھ ہی یہ بات بھی درست ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ملنے والے پیغامات بھی زیادہ خوش کن نہیں، جن سے درکار اعتماد سازی ہو پائے۔ مثال کے طور پر 'آپریشن وارپ' نامی ویکسین پروگرام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوری اقدام زیادہ ضروری ہے بجائے حفظان صحت کے لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھنا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر اصرار کہ ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن کرونا وائرس کے علاج کے لیے مفید ہے، دراصل انتظامیہ طبی ماہرین کی نفی کر رہی ہے، جب کہ یہ بات ثابت ہے کہ یہ حقیقت کے برعکس ہے۔

سوک سپانا کی رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ یہ تاثر دینا کہ الٹرا وائلٹ روشنی یا بلیچ کا استعمال کرونا وائرس کے علاج میں معاون ہو سکتے ہیں، درست نہیں ہے۔

رائے عامہ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کی توثیق کے نتیجے میں 36 فی صد افراد ویکسین کے استعمال کی مخالفت کریں گے، جب کہ امکان یہی ہے کہ محض 14 فی صد ایسے افراد ہیں جو اس توثیق کو درست مانیں گے۔

امریکہ میں مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والی کمیونیٹیز آبادی کے تناسب کے اعتبار سے کرونا وائرس کی زیادہ زد میں آئی ہیں، وہ بھی ویکسین کے استعمال کی جانب زیادہ راغب نظر نہیں آتیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ 22 سے 44 فی صد سیاہ فام یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ ویکسین استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

اس بات کا کسی حد تک سبب بیسویں صدی کے دوران افریقی امریکیوں کے ساتھ طبی تجربات کا سلسلہ جاری رہنا ہے، جسے وہ خیانت آمیز قرار دیتے ہیں۔ سوک سپنا نے کہا کہ بدعنوانی اور خرابی کے مبینہ عمل کی بنا پر شک کی گنجائش بنتی ہے۔ ساتھ ہی، بقول سپنا، صحت کی دیکھ بھال کے جاری نظام میں آج بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

ادھر، صحت عامہ کے حکام اس بات کے خواہاں ہیں کہ بداعتمادی کو دور کیا جائے، جس کے لیے وہ بغیر نفع نقصان کام کرنے والے اداروں، گرجا گھروں، کمیونٹی گروپوں، یہاں تک کہ نائی کی دکانوں سے رابطہ کر رہے ہیں، جن کی مدد سے ویکسین لگانے کا کام بطور احسن مکمل کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG