رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا ویکسین بنانے والے اداروں میں امریکہ کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری


امریکہ کی حکومت نے دوا ساز ادارے 'نوواویکس' کو کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کی آزمائش اور پیداوار کے لیے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر دیے ہیں جس کا مقصد جنوری تک 10 کروڑ خوراکیں فراہم کرنا ہے۔

امریکی محکمۂ صحت کے اعلان کے مطابق، یہ وائٹ ہاؤس کے آپریشن وارپ اسپیڈ کے تحت دی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ آپریشن وارپ اسپیڈ کے تحت دواساز اداروں کو رقوم دی جارہی ہیں تاکہ ویکسین کی آزمائش، تیاری اور پیداوار کا کام تیز کیا جاسکے۔

اس اعلان کے بعد میری لینڈ میں قائم نوواویکس کے حصص کی مالیت 29 فیصد بڑھ کر 102 ڈالر تک پہنچ گئی۔

نوواویکس کے چیف ایگزیکٹو اسٹینلے اورک نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رقم ویکسین کی 10 کروڑ خوراکوں کا معاوضہ ہے جن کی فراہمی اس سال کی چوتھائی سہ ماہی میں شروع کی جائے گی اور آئندہ سال جنوری یا فروری تک مکمل ہوجائے گی۔

اس میں ممکنہ ویکسین کی آزمائش کے تیسرے مرحلے کی لاگت بھی شامل ہے۔ یہ انسانوں پر آزمائش کا حتمی مرحلہ ہوگا۔

ایرک نے کہا کہ پہلے مرحلے کی آزمائش کے نتائج ایک ہفتے سے کم وقت میں مل جائیں گے۔ دوسرے مرحلے کی آزمائش اگست یا ستمبر میں ہوگی اور تیسرا مرحلہ اکتوبر میں شراوع کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ صحت اس سے پہلے ممکنہ ویکسینز کی آزمائشوں اور تیاری کے لیے مارچ میں جانسن اینڈ جانسنز کو 45 کروڑ 60 لاکھ ڈالر، اپریل میں موڈرنا کو 48 کروڑ 60 لاکھ ڈالر اور مئی میں آسٹرا زینیکا کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر فراہم کرچکا ہے۔ موڈرینا کو ویکسین کی آزمائش میں آکسفرڈ یونیورسٹی کا تعاون حاصل ہے۔

امریکی حکومت نے ایمرجنٹ بایوسولوشنز کو بھی 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دیے ہیں تاکہ وہ کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسینز اور دواؤں کی مقامی پیداوار کی صلاحیت بڑھائے۔

وزیر صحت ایلکس ایزر نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن وارپ اسپیڈ میں نوواویکس کی ممکنہ ویکسین کے اضافے سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ اس سال کے آخر تک کم از کم ایک محفوظ اور موثر ویکسین ہمیں دستیاب ہوگی۔

امریکی انتظامیہ نے ریجینیرون فارماسیوٹیکلز کے ساتھ بھی 45 کروڑ ڈالر کا ایک معاہدہ کیا ہے، تاکہ وہ کرونا وائرس کے لیے اینٹی باڈی تیار اور فراہم کرے۔

اس سے پہلے نوواویکس کو ایک نجی کمپنی کولیشن فور ایپی ڈیمک پریپئرڈنیس انوویشنز نے مارچ میں 4 ملین اور پھر مئی میں 38 کروڑ 80 ملین ڈالر فراہم کیے تھے۔ جون میں امریکی محکمہ دفاع نے کمپنی کو 6 کروڑ ڈالر دیے تھے، تاکہ وہ اسی سال ویکسین کی 10 کروڑ خوراکیں تیار کرسکے۔

نوواویکس ایک کمپنی کو اپنی ویکسین ٹیکنالوجی فراہم کررہی ہے جس کے پاس دو بڑے پیداواری مراکز ہیں۔ آزمائشی مرحلوں کے لیے خوراکیں ایمرجنٹ بایوسولوشنز نے فراہم کی ہیں۔ نوواویکس کو توقع ہے کہ وہ آئندہ سال وہ امریکہ میں ماہانہ ویکسین کی 5 کروڑ خوراکیں بنانے کے قابل ہوگی۔

نوواویکس کا ایک پیداواری پلانٹ سویڈن اور ایک جمہوریہ چیک میں بھی ہے۔ وہ یورپ میں دو اور ایشیا میں ایک پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ ایک اور پلانٹ بھارت میں لگانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ایرک کا کہنا ہے کہ کمپنی ویکسین کی منظوری کے بعد ماہانہ 10 کروڑ خوراکیں تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG