رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں کرونا کی رپورٹنگ پر مقدمات، صحافی تنظیموں کا اظہارِ تشویش


فائل

کرونا وائرس کی عالمی وبا سے جہاں صحت اور معیشت کے شعبے تباہ حالی کا شکار ہوئے ہیں، وہاں ریاست کا ایک اہم ستون یعنی پریس بھی متاثر ہوتا نظر آتا ہے۔ پریس کی آزادی کی علمبردار تنظمیں اس بات پر تشویش کا اظہار کررہی ہیں کہ، بقول ان کے، کوویڈ نائٹنین کی آڑ میں ذرائع ابلاغ کی آزادی پر بھی شدید ضرب پڑ رہی ہے۔

وائس آف امریکہ کی نامہ نگار انجنا پسریچا نے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ بھارت بھی، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سے موسوم کیا جاتا ہے، اس سے مستثنیٰ نہیں۔

اس کی تفیصل بتاتے ہوئے انھوں نے نئی دلی سے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کی کوریج کرنے والے نامہ نگاروں پر دباو ڈالنے کے لئے بھارتی قوانین کو حرکت میں لایا جارہا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایسے صحافیوں کو جو کھل کر اظہارخیال کرتے ہیں، ہراساں کرنے سے پریس کی آزادی پر آنچ آتی ہے اور ساتھ ہی لوگ سچ جاننے کے اپنے حق سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔

بھارت کے مغرب میں گجرات سے لے کر شمال میں ہماچل پردیش تک کرونا وائرس کی وبا کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے ایسے رپورٹروں کے خلاف شکایات درج کی گئی ہیں جنہوں نے قومی یا علاقائی سطح پر، حکام کے خیال میں، مبینہ تنقیدی رویہ اختیار کیا تھا۔

ذرائع ابلاغ سے متعلق ایک تجزیہ کار این بھاسکر راو کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا کے بعد صحافیوں کو ہراساں کرنے کے تازہ واقعات سامنے آرہے ہیں جن سے، بقول ان کے، یہ پیغام ملتا ہے کہ ایسی رپورٹوں پر، جو حکام کو پسند نہیں آئیں گی نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت اس وقت کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے۔ صرف گزشتہ چوبیس گھنٹھوں میں جمعہ کے دن یہ تعداد تقریبا گیارہ ہزار ریکارڈ کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت میں اس سے پہلے بھی میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش میں بعض قوانین سے فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب کرونا کی عالم گیر وبا کی آڑ میں وبائی بیماریوں کے ایکٹ کا سہارا لیا جارہا ہے جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں نافذ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی اس کے لئے دو ہزار پانچ کے ڈیزاسسٹر مینجمنٹ ایکٹ کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ دونوں قوانین کے تحت قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

بھارت میں صحافیوں کی قومی یونین نے وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ پریس کی آزادی کا تحفظ کیا جائے جبکہ دوسری جانب ایڈیٹر گلڈز کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے فوجداری قوانین کا بڑھتا ہوا غلط استعمال تشویش کا باعث ہے۔ تاہم، بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوید کا دعویٰ ٰہے کہ ملک کے ذرائع ابلاغ کو مکمل آزادی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، بڑے مقامات کے علاوہ بہت سے چھوٹے شہروں کے صحافیوں کو یکساں طور پر ہراساں کیا جارہا ہے۔ ان پر کووڈ نائنٹین کی کوریج کے حوالے سے مبینہ طور پر افواہیں پھیلانے، نفاق پیدا کرنے اور دشمنی کو ہوا دینے سے لے کر غداری تک کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔

وائس آف امریکہ نے یہاں واشنگٹن میں تبصرے کے لئے بھارت کے سفارتخانے سے رابطہ کیا تو نئی دلی میں خارجہ امور کی وزارت کے ترجمان سے بات کرنے کے لئے کہا گیا۔ تاہم، ترجمان نے صورتحال پر تبصرہ کے لئے ای میل کا جواب نہیں دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG