رسائی کے لنکس

'کرونا کے وجہ سے گھر میں بند ہیں تو منفی سوچ سے دور رہیں'


کرونا کے علاج سے وابستہ ایک ڈاکٹر این میسمن کہتی ہیں کہ تھکن کے احساس کو قریب نہ آنے دیں۔

کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا اور ان حالات میں شب و روز کی احتیاطی تدابیر نے ذہنی دباؤ اور تھکن میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذہنی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو خود ہی اپنے معمولات نئے سرے سے ترتیب دے کر خوش و خرم زندگی کا آغاز کرنا چاہیے۔

پوری دنیا کو کرونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بہت سی جگہوں پر جزوی لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ اب دفتر جانے کے بجائے گھروں سے کام کرتے ہیں۔ سماجی زندگی کی دیگر مصروفیات موقوف ہو گئی ہیں۔ گھروں سے شاذ و نادر نکلنا ہوتا ہے۔ ان محدود حالات میں بہت سے لوگ یکسانیت کا شکار ہیں اور ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار جیف سیویکارڈ نے واشنگٹن ڈی سی میں ذہنی امراض کے معالج ڈینیل بلیسنگ ٹیلر سے بات کی اور اس مسئلے سے متعلق سوالات کیے۔

​ڈاکٹر ٹیلر کا کہنا ہے کہ آج کل بیشتر افراد اپنے گھر سے دفتر کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا خوب موقع ملتا ہے۔

مگر ان کے بقول اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ پہلے وہ تیار ہو کر دفتر جاتے تھے۔ ماحول تبدیل ہوتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں۔ نامعلوم سی پریشانی کا احساس گھیرے رکھتا ہے۔ زندگی کے ان بدلے طور طریقوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے اور اجنبی معمولات کے ساتھ زندگی گزارنا کوئی خوشگوار تجربہ نہیں۔

ڈاکٹر ٹیلر نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ نئے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور روزمرہ زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔ وہ بالکل ایسا محسوس کریں کہ وہ ماضی کی طرح دفتر جا رہے ہیں۔ اپنے مقررہ وقت پر اٹھیں، مقرر وقت پر تھوڑی بہت ورزش کریں اور پھر کام شروع کر دیں۔

اسی طرح رات کو گھر والوں کے ساتھ کھانا کھائیں اور اس دوران کوشش کریں کہ کرونا وبا کے بارے میں کم سے کم سوچیں اور بات کریں۔ دنیا کے اور بھی بہت سے موضوعات ہیں جن کے بارے میں سوچا یا بات کی جا سکتی ہے۔ منفی اور غیر تعمیری خیالات سے دور رہ کر ہی عام لوگ اپنے ذہنی دباؤ کو کم کر سکتے ہیں۔

انٹرویو میں ڈاکٹر ٹیلر نے مزید کہا کہ باہر نکلتے ہوئے کئی بار سوچیں کہ کیا باہر جانا ضروری اور محفوظ ہے۔

بقول ان کے، "آپ کس سے مل سکتے ہیں؟ کس کو اپنے گھر بلانا مناسب ہے؟ اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے۔ اسی طرح خبریں سنتے ہوئے اگر آپ محسوس کریں کہ اس سے گھبراہٹ اور پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے تو آپ خبروں کو بند کردیں اور خود کو کسی اور کام میں مصروف کر لیں۔"

ڈاکٹر ٹیلر کا خیال ہے کہ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو جسم اور دماغ کو خود کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ وقفے وقفے سے یوگا کی مشقیں بھی کار آمد ثابت ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ اپنی ذہنی حالت پر دینی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ سوچنے کا انداز بدل جائے تو آدھی سے زیادہ ذہنی بیماری ٹل جاتی ہے۔ اس کے لیے دماغ کو تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ ان حالات میں مسقبل قریب میں کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ جو اختیار نہیں، اس پر پچھتانا نہیں چاہیے۔

مالی پریشانیوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹیلر کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔ آمدنی کے ذرائع بند ہو گئے ہیں۔ فطری طور پر اس سے ذہن پر دباؤ بڑھتا ہے۔ یقیناً یہ مشکل وقت ہے۔ مگر یہی وقت ہوتا ہے جب انسان کو حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔

معاشی بحران سے نکلنے کے نئے راستے تلاش کرنا بے حد ضروری ہیں۔ ایسے مواقع پر اس طرح کے خیالات بڑی تقویت دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ فی الحال یہ موقع ہے کہ گھر والوں کے ساتھ جی بھر کر وقت گزاروں اور اس سے لطف اٹھاؤں۔ شائد آئندہ مجھے اس کے لیے وقت نہ ملے۔

ڈاکٹر ٹیلر نے کہا کہ ''یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات بہت سنگین اور لا علاج ذہنی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد بھی ہماری زندگی کا ماضی جیسا حال نہیں ہو گا اور ہمیں اس کی تیاری ابھی سے کرنا ہوگی''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG