رسائی کے لنکس

logo-print

بحری جہازوں کے لاکھوں کارکن کئی ماہ سے خشکی پر قدم رکھنے کے منتظر


بحری جہاز پر ملازمت کرنے والے تجاسوا دوسیجا ان دو لاکھ کارکنوں میں شامل ہیں جو کرونا وائرس کے اس بحران میں کئی مہینوں سے سمندروں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں ساحل پر اترنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

مال برداری والے بحری جہازوں سے لے کر لگژری کروز جہازوں میں کام کرنے والے کارکنوں کے متعلق حال ہی میں اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ان کے لیے انسانی ہمدردی کے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں کئی کارکن خودکشی کر چکے ہیں۔

بحری عملے کے زیادہ تر ارکان کو جنہیں اپنے معمول کے مطابق سمندر میں اپنے قیام کی مدت مکمل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹنا تھا، وہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد نافذ پابندیوں کی وجہ سے سمندروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

دوسیجا نے، جن کی عمر 27 سال ہے اور وہ ایک شپنگ کمپنی میں کام کرتے ہیں، خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ جہاں تک میری ذہنی حالت کی بات ہے تو میرے پاس سوائے جہاز پر رہنے کے کوئی اور آپشن ہی موجود نہیں ہے۔

واٹس ایپ کے ذریعے کیے گئے اپنے انٹرویو کے وقت ان کا کارگو جہاز ملائیشیا کے قریب تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے آخری بار زمین پر اپنے قدم فروری میں رکھے تھے اس کے بعد کرونا وائرس آ گیا اور ہم سمندر میں پھنس گئے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 30 ہزار بھارتی باشندے سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

عام طور پر بحری جہازوں کے کارکن چھ سے آٹھ مہینوں تک سمندر کے سفر پر رہتے ہیں جس کے بعد وہ اپنے ملکوں کو واپس چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نیا عملہ لے لیتا ہے۔ لیکن کرونا وائرس نے اس طریقۂ کار پر عمل درآمد تقربیاً ناممکن بنا دیا ہے۔

صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر اس مہینے برطانیہ میں سمندری امور سے متعلق سربراہ کانفرنس میں ایک درجن سے زیادہ ملکوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سمندر میں پھنسے ہوئے کارکنوں کا معاملہ خاص طور پر زیر غور آیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ انہیں گھر لانے میں مدد کی جائے۔

فلپائن کے ایک لگژری کروز شپ کے ایک ٹیکنیشن 31 سالہ چروکی کاپاجو زمین پر ایک بار بھی اپنے قدم رکے بغیر کئی مہینوں سے سمندر میں ہیں۔ انہوں نے جنوری میں فلوریڈا سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا جب دور دور تک کرونا وائرس کا نام و نشان نہیں تھا۔

لیکن جب وائرس پھیلنا شروع ہوا تو اس نے کروز جہازوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جن میں جاپان میں مشہور زمانہ جہاز ڈائمنڈ پرنسس بھی شامل تھا۔

کاپاجو کے جہاز نے آخری بار 14 مارچ کو فلوریڈا کے جیکسن ول میں لنگر انداز ہو کر مسافروں کو اتارا تھا لیکن عملے کو اترنے کی اجازت نہیں ملی تھی اور ان 1200 کارکنوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مزید سات ہفتوں تک جہاز پر ہی رہیں۔

کاپاجو کو 29 جون کو منیلا پہنچ کر زمین پر قدم رکھنے تھے۔ لیکن ہوا یہ کہ انہیں کہا گیا انہیں مزید 14 دن قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ یہ 14 دن ان کی زندگی کے سخت ترین دن تھے کیونکہ ہر روز یہ خدشہ ہوتا تھا کہ کہیں کرونا کی علامتیں ظاہر نہ ہو جائیں۔ 14 روز قید تنہائی میں گزار کر جب وہ اپنے وطن فلپائن پہنچے تو وہاں ایک بار پھر انہیں 14 دنوں تک قرنطینہ میں رہنا پڑا۔

جہاز رانی کی صنعت کے گروپس نے اس صورت حال پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیترس کو پچھلے مہینے ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بہت سے بحری کارکن ایسے بھی ہیں جو گزشتہ 15 مہینوں سے سمندر میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف بحری جہازوں کے کارکنوں کے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ ان کی خاندان کے افراد بھی اتنے ہی پریشان رہتے ہیں۔

پریا موادا بسنت کہتی ہیں کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کو کب دیکھ سکیں گی، جو پچھلے آٹھ مہینوں سے ہانگ کانگ کی ایک کمپنی کے جہاز پر سمندر میں ہیں۔ جنوبی بھارت کے شہرکوچی سے تعلق رکھنے والی بسنت کا کہنا تھا کہ حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا شوہر گھر واپس آ جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG