رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی وبا کے پیش نظر امریکہ تعزیرات میں نرمی برتے: حقوق انسانی کی تنظیمیں


Coronavirus amplifies US sanctions pressure & pain on adversaries

کرونا وائرس کے نتیجے میں بہت سے ایسے پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں جنھیں اس عالمی وبا نے کسی نہ کسی طور شدت کے ساتھ متاثر کیا ہے۔ اقتصادی شعبہ ہو، سیاست کا میدان یا سماجی زندگی، سب ہی اس کی لپیٹ میں ہیں۔

اس ماحول میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس جانب توجہ دلا رہی ہیں کہ کرونا وائرس نے مختلف ملکوں کے خلاف عائد امریکی تعزیرات کی تکالیف کو اور بڑھا دیا ہے۔

نہ صرف انسانی حقوق کی تنظیمیں بلکہ امدادی ادارے اور سابق سفارتکاروں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران، وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے ملکوں کے خلاف تعزیرات میں نرمی کرے، تاکہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران طبی اور غذائی امداد کی آسانی سے رسائی ممکن ہوسکے۔

تاہم، ستم ظریفی یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے وہ حامی جو زیادہ سے زیادہ دباؤ کے لئے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی مخالفت تو نہیں کرتے. لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ کسی قسم کی بھی ایسی راحت فراہم کی جائے جس سے، بقول ان کے، آمرانہ حکومتوں کی اقتدار پر گرفت جاری رہے۔

یاد رہے کہ مشرق وسطٰی میں ایران کے اندر کرونا وائرس کے انفیکشن کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور شائد اسی کے پیش نظر بعض ایسی تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کو نرم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جن سے اہم ادویات اور طبی سامان کی درآمد میں ایران کو رکاوٹوں کا سامنا درپیش ہے۔

نیو امریکی سیکورٹی کے مرکز سے منسلک پیڑہیرلڈ کہتے ہیں کہ یہ ان ملکوں کا جنھوں نے تعزیرات عائد کی ہیں اخلاقی فرض ہے کہ وہ عام شہریوں پر ان پابندیوں کے نقصان دہ اثرات میں کمی کا سامان پیدا کریں۔

وائس آف امریکہ کےنامہ نگار برائن پیڈن نے اپنی رپورٹ میں وینزویلا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے تعزیرات سے پہلے ہی خوراک اور دواوں کی قلت کا سامنا تھا. لیکن کرونا کی عالمگیر وبا نے صورتحال کو اور بھی خراب کردیا ہے جس کی ایک وجہ تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوہٹ ہے۔ وینیزویلا کی معیشت کا زیادہ تر دار و مدار تیل کی آمدنی پر ہے۔

جہاں تک شمالی کوریا کا تعلق ہے اس کے خلاف تعزیرات کی حمایت کرنے والوں کی دلیل ہے کہ کرونا وائرس کے بعد دی جانے والی امداد سے اسے اور دوسری آمرانہ حکومتوں کو ہتھیاروں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے زیادہ وسائل کے استعمال کا موقع ہاتھ لگ جائے گا۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی نامی تنظیم کے رچرڈ گولڈبرگ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر موجودہ بحران کے دوران امریکی تعزیرات کی وجہ سے ان ملکوں کے طرز عمل میں تبدلی آجائے اور وہ اپنے پیسوں کا استعمال اپنے عوام پر کریں تو درحقیقت یہ امریکہ کے لئے سود مند ہوگا ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، کرونا کی عالمی وبا جبکہ ہوسکتا ہے کہ ان ملکوں کی صلاحیتوں کو کمزور کردے، واشنگٹن کو، انسانی حقوق کے گروپوں کے بقول، یہ چاہئے کہ وہ متعلق العنان لیڈروں پر جاری دباؤ اور ان ملکوں میں عام لوگوں کی انسانی ضروریات کے درمیان، توازن کو فروغ دے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG