رسائی کے لنکس

وبا کی وجہ سے شامی مہاجرین کی اقتصادی مشکلات میں مزید اضافہ


مہاجر خواتین و بچے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے والے شامی مہاجرین انتہائی غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا نے ان لاکھوں مہاجرین کی اقتصادی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔

جینوا سے ہماری نامہ نگار لیزا شلائین نے خبر دی ہے کہ اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے والے مہاجرین سخت معاشی دباو کا شکار ہیں۔ مصر، عراق، اردن اور ترکی میں پناہ لینے والے پچپن لاکھ سے زیادہ مہاجرین انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے بڑے مہاجر گروپ کی بنتی ہے۔

مہاجرین کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ان کے مالی وسائل بھی محدود تر ہوگئے ہیں۔ ایسے حالات میں ان کا جینا محال ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے ترجمان اندریج مہیسک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ خواتین جو گھر چلا رہی ہیں، لاوارث بچے، معذور اور ضعیف افراد حالات سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا استحصال بھی کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں بے حد تشویش ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے۔ انہیں ادویات بھی میسر نہیں ہیں۔

مہاجرین کی ایجنسی کا کہنا ہے دس میں سے نو شامی مہاجرین کیمپوں کے بجائے شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں۔ ان کو بہت کم اجرت ملتی ہے۔ انہیں پیٹ بھرنے کے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور مشکل سے یہ اپنا گذارا کر پاتے ہیں۔ ان کے بچوں سے مشقت کرائی جاتی ہے اور کم عمر لڑکیوں سے زبردستی شادی کر لی جاتی ہے۔ غرض ہر طرح سے ان سبھی کا استحصال ہو رہا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ مہاجرین کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین ان مہاجرین کی امداد کر رہا ہے۔ مگر یہ امداد ناکافی ہے، ہمیں مزید نقد رقم کی ضرورت ہے، تاکہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی بحران پر کسی حد تک قابو پا یا جاسکے۔

اس سلسلے میں ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG