رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیلی میڈیسن: مریضوں اور ڈاکٹروں کا انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ


ایک نرس مریضوں کے سوالات کے جواب ویڈیو لنک کے ذریعے دے رہی ہے۔ فائل فوٹو

امریکہ میں کرونا وائرس کا زور مارچ کے وسط سے شروع ہوا اور اس سے بچنے کی سب سے موثر احتیاط یہ تھی کہ ایک دوسرے سے ممکن حد تک دور رہا جائے؛ یعنی وائرس کی پہنچ سے بہت دور۔ اس پابندی کے بعد لوگوں نے متبادل طریقے تلاش کرنے شروع کر دیے۔ ایسے حالات میں وہ مریض کیا کرتے جنہیں کرونا نہیں مگر معالج سے مشورہ اور تشخیص کی ضرورت پڑتی ہے۔

امریکہ میں فون یا ای میل کے ذریعے رابطہ پہلے بھی ہوا کرتا تھا۔ مگر، آٹے میں نمک کے برابر، تقریباً ایک فی صد۔ مگر اب یہ تناسب بہت بڑھ گیا ہے۔ ایک نئے مطالعے کے مطابق، تیس فی صد مریض ٹیلی وزٹ کے ذریعے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔ وہ ویڈیو کے ذریعے مریض کا معائنہ کرتے ہیں اور دوا تجویز کرتے ہیں۔

ہارورڈ یونی ورسٹی کے ریسرچ سکالرز کے مطابق، یہ ایک ڈرامائی تبدیلی ہے۔ ہارورڈ میڈیکل سکول کے پروفیسر مہروترا کہتے ہیں کہ یہ ایک تبدیلی ہے جو عشروں میں رونما ہو سکتی تھی، مگر ان حالات کی بدولت یہ چند دنوں میں دیکھنے میں آئی۔ اچھی بات یہ تھی کہ رابطے کا یہ طریقہ بالکل نیا نہیں تھا۔ امریکہ کے دیہی علاقوں میں جہاں کلنک تک پہنچنا دشوار تھا، وہاں مریض اپنا حال فون پر بیان کر کے دوا تجویز کروا لیتے تھے۔

بہرحال اب ٹیلی میڈیسن کے بغیر گذارا ممکن نہیں۔ کلنک میں جانا خطرے سے خالی نہیں۔ عام امراض کے ایک فزیشین ڈاکٹر ایڈورڈ لی کہتے ہیں کہ ویڈیو کے ذریعے مرض کے بارے میں بہت کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر کوئی انجکشن لگانے یا معمولی جراحی کی ضرورت ہے تو پھر ہم مریض سے ایمرجینسی میں آنے کے لیے کہتے ہیں۔ ڈاکٹر مہروترا کہتے ہیں کہ اکثر مریض اس نظام سے مطمئین ہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ وہ اسے مکمل علاج نہیں سمجھتے۔

بہت سے طبی ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد بھی ٹیلی میڈیسن کا طریقہ رواج پاتا رہے گا۔ تاہم، ڈاکٹر کے پاس جاکر معائنہ کروانا، ٹسٹ کروانے اور ڈاکٹروں کی فیس جیسے معاملات کا حل تلاش کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر مہروترا کا خیال ہے کہ آنے والے وقتوں میں ٹیلی میڈیسن کو کافی عروج حاصل ہوگا، کیوںکہ اس سے مریض کو فوری طبی مدد حاصل ہو جاتی ہے۔

کرونا وائرس کے بعد ہماری دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں گی؟ ان کے بارے میں جن اہم شعبوں کا نام لیا جاتا ہے اس میں طب کا شعبہ بھی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG