رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کل فیصلہ کن میچ کھیلیں گے


بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کل فیصلہ کن میچ کھیلیں گے
بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کل فیصلہ کن میچ کھیلیں گے

گروپ "بی" کے انتہائی اہم معرکے میں کل شیربنگال نیشنل اسٹیڈیم پر میزبان بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز مدمقابل ہوں گے۔ دونوں ٹیموں نے عالمی کپ میں اپنے گروپ میں دو، دو مقابلوں میں سے ایک، ایک میں فتح حاصل کر رکھی ہے اور کل کامیچ عالمی کپ میں دونوں ٹیموں کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان مجموعی طور پر 16 مقابلے ہوئے جس میں گیارہ میں ویسٹ انڈیز جبکہ تین میں بنگلہ دیش نے فتح حاصل کی جبکہ دو بے نتیجہ رہے ۔ دونوں ٹیموں میں اب بھی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو ماضی میں حریف ٹیم کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو چکے ہیں جن میں ویسٹ انڈیز کے چندر پال، سروان، کریس گیل اور کیمر روئچ جبکہ بنگلہ دیش کے محمد اشرفل، شکیب الحسن اورجنید صدیقی شامل ہیں ۔

ماضی میں ویسٹ انڈیز کے چندر پال ایسے کھلاڑی ہیں جو بنگالی گیند بازوں کے خلاف سب سے زیادہ موثر رہے۔ انہوں نے دس میچوں میں چار نصف سنچریوں کی مدد سے 378 رنز بنا رکھے ہیں۔ ان کے علاوہ سروان نے بھی اتنے ہی میچوں میں ایک شاندار سنچری اور نصف سنچری کی مدد سے 350 رنز بٹورے جس میں ایک سو دو رنز کی اننگز ان کے لئے اب تک یاد گار ہے ۔

دنیا بھر کے بلے بازوں کی نیندیں حرام کرنے والے کریس گیل بنگلہ دیش کے خلاف تیسرے کامیاب بلے باز ہیں۔ انہوں نے نو میچوں میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 184 رنز بنا رکھے ہیں۔ اگر ورلڈ کپ کی بات کی جائے تو ڈیرن بارو نے جنوبی افریقہ کے خلاف 73 رنز کی اننگز کھیلی تھی جبکہ ڈوین براؤ نے بھی چالیس رنز بنائے تھے جبکہ آئر لینڈ کے خلاف کریس گیل 80، کیون پولارڈ 60 اور ڈیون اسمتھ 53 رنز بنا کر اعتماد حاصل کر چکے ہیں اور بنگالی بالرز کیلئے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس سے پہلے محمد اشرفل نے بنگلہ دیش کی جانب سے ویسٹ انڈیز کے بالرز کو سب سے زیادہ پریشان کیا۔ انہوں نے 13 مقابلوں میں دو نصف سنچریوں کی مدد سے 256 رنز بنا رکھے ہیں۔ شکیب الحسن نے پانچ مقابلوں میں 135 رنز بنائے جس میں دو مرتبہ انہوں نے پچاس کا ہندسہ عبور کیا۔ شکیب الحسن نے عالمی کپ کے پہلے میچ میں بھارت کے خلاف بھی 55 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ جنید صدیقی نے بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف تین میچوں میں 114 رنز بنا رکھے ہیں جن میں ایک نصف سنچری بھی شامل ہے ۔

ان کے علاوہ بنگلہ دیش کے اوپنر تمیم اقبال نے بھی گزشتہ دو میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس میں ان کی بھارت کے خلاف سترہ اور آئر لینڈ کے خلاف 44 رنز کی اننگز شامل ہیں۔ان کے علاوہ مشفیق الرحمن اور رفیق الحسن بھی کل اپنی ٹیم کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

ویسٹ انڈیز کے کیمر وائچ نے آئر لینڈ کے خلاف ہیٹ ٹرک سمیت جس طرح چھ وکٹیں حاصل کیں اس سے دنیا بھر کے بلے بازوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ موجودہ ٹیم میں وائچ ہی ویسٹ انڈیز کے وہ واحد کھلاڑی ہیں جن کا بنگلہ دیش کے خلاف سب سے اچھا ریکارڈ ہے۔ انہوں نے اب تک تین میچوں میں بنگالی ٹیم کو 162 رنز دیئے اور دس وکٹیں حاصل کیں۔ لہذا کل کے میچ میں بھی وہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ کریس گیل دوسرے کامیاب ویسٹ انڈین گیند باز ہیں جنہوں نے نو میچوں میں 198 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

بنگلہ دیش کی جانب سے عبدالرزاق ایسے بالر ہیں جن کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے اچھا ہے۔ انہوں نے پانچ میچوں میں 234 رنز کے عوض 8 وکٹوں کا سودا کر رکھا ہے۔ شکیب الحسن دوسرے کامیاب بالر ہیں جنہوں نے پانچ میچوں میں تین وکٹیں 146 رنز دے کر لیں۔ علاوہ ازیں شفیع الاسلام نے آئر لینڈ کے خلاف 8 اوورز میں 21 رنز دے کر چار کھلاڑی آؤٹ کیے۔ لہذا ان پر بھی اعتماد کیا جا سکتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG