رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان میں تیسرے روز بھی دھرنا جاری، کرفیو نافذ


شمالی وزیرستان کے قصبے میر علی میں مقامی قبائلی احتجاج کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

ایجنسی حکام نے احتجاج میں مزید افراد کو شمولیت کو روکنے کے لیے ایجنسی میں منگل کی صبح سے غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے میر علی میں تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف قبائلیوں کا احتجاجی دھرنا منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہے جب کہ حکام نے دھرنے میں لوگوں کو شرکت سے روکنے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

ایجنسی حکام نے احتجاج میں مزید افراد کو شمولیت کو روکنے کے لیے ایجنسی میں منگل کی صبح سے غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے جس کے باعث میر علی، میران شاہ، رزمک اور میر علی بنور کے درمیان ہر قسم کی آمد و رفت بند ہے۔

احتجاج اور کرفیو کے باعث ایجنسی کی اہم شاہراہوں پر قائم چوکیوں پر سکیورٹی فورسز کی نفری بڑھادی گئی ہے لیکن کرفیو کے باوجود بھی قریبی دیہات اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی سیکڑوں کی تعدادمیں احتجاجی دھرنے کے مقام پر جمع ہیں۔

دھرنے کے شرکا سے مقامی نوجوان تنظیم کے عہدیدار اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی وقتاً فوقتاً خطاب کر رہے ہیں۔

مقررین کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف علاقے میں تشدد بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہے بلکہ انہیں حالیہ فوجی کاروائیوں کے دوران عام لوگوں سے اسلحہ جمع کرنے کے باوجود علاقے میں مسلح گروہوں کی موجودگی اور گھروں پر ان کے حملوں پر حیرانی بھی ہے۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دھرنے کے شرکا حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامی حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے ہیں۔

علاقے میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری ہیں اور اچانک کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ بروقت امتحانی مراکز پر نہیں پہنچ پائے۔

طلبہ و طالبات کا موقف ہے کہ انتظامی حکام نے انہیں یقین دہانی کے باوجود امتحانی مراکز تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم نہیں کی جس پر کرفیو سے متاثر ہونے والے کئی طلبہ بھی دھرنے میں شامل ہو گئے ہیں۔

دریں اثنا شمالی وزیرستان سے ملحق خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے بنوں سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ عسکریت پسند کی تدفین ایک ہیرو کی طرح اس کے آبائی علاقے میں کردی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سابق اسکول استاد احمد رحمن ولد مسعود رحمن اتوار کو سرحد پار افغانستان میں ہونے والی ایک جھڑپ میں ہلاک ہوا تھا جس کی لاش پیر کی صبح بنوں کے علاقے ممش خیل کے گائوں خدی خیل میں اس کے لواحقین کے حوالے کردی گئی تھی۔

حکام کے مطابق مبینہ شدت پسند احمد رحمن گزشتہ سال 7 فروری کو بنوں کے منڈان پولیس تھانے پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا جس میں دو پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG