رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا: بنوں میں پولیس پر بم حملہ، ایک اہلکار ہلاک


دھماکے سے تباہ ہونے والی پولیس موبائل

حکام کے مطابق نامعلوم عسکریت پسندوں نے شہر کے بس اڈے کے قریب پولیس کی ایک موبائل گاڑی کو دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں پولیس پر ایک بم حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق نامعلوم عسکریت پسندوں نے شہر کے بس اڈے کے قریب پولیس کی ایک موبائل گاڑی کو دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا۔

جمعے کو کیے جانے والے اس حملے میں پولیس گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جب کہ اس میں موجود ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ بم حملے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ڈویژنل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے اس بم حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر پولیس حکام اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

بنوں پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملحق ہے جہاں پر موجود عسکریت پسندوں کے خلاف جون 2014ء کے وسط میں ضربِ عضب کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی۔

اس کارروائی کے نتیجے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کا نیٹ ورک تو توڑ دیا گیا ہے مگر کئی عسکریت پسند سرحد پار افغانستان فرار ہوچکے ہیں۔

پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس فوجی کاروائی کے نتیجے میں ملک بھر میں امن و امان کی صورتِ حال میں کافی بہتری آئی ہے۔

مگر چند روز قبل ہی شمالی وزیرستان کے دو مختلف گاﺅں میں عسکریت پسندوں نے خواتین کے دو اسکولوں کو بم دھماکوں سے نقصان پہنچایا تھا۔

بنوں میں پولیس کی گاڑی پر حملے سے چند گھنٹے قبل پشاور کے ایک ہوٹل میں گیس بھر جانے کی وجہ سے ہونے والے دھماکے میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق ہنگو کے ایک ہی خاندان سے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG