رسائی کے لنکس

داعش کی پسپائی کے بعد نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں


تباہ حال موصل میں لوگ آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور اجڑا شہر پھر سے آباد ہونا شروع ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق داعش کے سابقه مضبوط مراکز، مثلاً موصل شہر میں لگ بھگ 17 لاکھ عراقی جو تشدد سے بچنے کے لیے  فرار  ہو گئے  تھے، اپنے گھروں کو  واپس آ چکے ہیں۔

اب جب کہ عراقی فورسز داعش کو ان کے مضبوط مراکز سے پیچھے دھکیل رہی ہیں، بہت سے عام شہری جو تشدد کے ڈر سے گھر بار چھوڑ کر جا چکے تھے، واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔کچھ نسلی اور مذہبی گروپس، مثلاً یزیدیوں کے لیے ان خوفناک واقعات کے اثرات گھر واپسی کی راہ میں مسلسل حائل ہیں جن کا تجربہ انہیں داعش کے دور میں ہوا تھا ۔ برطانیہ میں ایک حالیہ کانفرنس میں اس بارے میں غور کیا گیا کہ یزیدیوں کو شمالی عراق میں ان کے وطن واپس بھیجنے کے قابل بنانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق داعش کے سابقه مضبوط مراکز، مثلاً موصل شہر میں لگ بھگ 17 لاکھ عراقی جو تشدد سے بچنے کے لیے فرار ہو گئے تھے، اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں۔

لیکن 30 لاکھ سے زیادہ لوگ ابھی تک نقل مکانی کی حالت میں ہیں جن میں سے کچھ پناہ گزین کیمپوں میں ہیں جب کے دوسرے عراق کے دوسرے حصوں میں خاندان یا نجی رہائش گاہوں میں ہیں۔

تارکین وطن سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ جائزہ لیا گیا کہ اتنے سارے لوگ کیوں یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے۔ تارکین وطن کی انٹر نیشنل تنظیم کی ہالہ جابر نے وائس آف امریکہ سے اسکائپ کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک وجہ تو عراق میں نسلی تفریق کی وجہ سے پیدا ہونے والا انتقام کا خوف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سب سے اہم رکاوٹ تو ظاہر ہے سیکیورٹی ہے ۔ اگر انہیں یہ خوف ہو کہ جہاں وہ جار ہے ہیں وہاں سیکیورٹی کے مسائل واقعی موجود ہیں تو وہ واپس نہیں جاتے۔

کچھ مقامات پر لڑائی کے دوران 85 فیصد عمارات اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہو گیا تھا۔

حالہ جابرکہتی ہیں کہ بعض مرتبہ لوگوں کی واپسی میں تاخیر اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ اپنے گھر وں کی مرمت نہیں کر سکتے۔ بسر أوقات کے ذرائع ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔

نسلی طور پر یزیدی لوگوں کی وطن واپسی کا مطلب ان دہشت انگیز واقعات کی یاد وں کا تازہ ہو جانا ہے جن سے وہ داعش کے دور میں گذرے تھے ۔ ہزاروں لوگ قتل ہوئے تھے، اور عورتوں اور لڑکیوں کو جنسی غلام بننے پر مجبور کیا گیا تھا، جو ایسی کارروائیاں ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے قتل عام قرار دیا ہے۔

برطانیہ کے فلاحی ادارے اے ایم اے آرفاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک حالیہ کانفرنس میں یزیدی پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں مدد کے حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ادارے کی بانی ایما نکولسن نے کہا کہ بہت سے کیمپ اس مقصد کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزین کیمپ اب پناہ کی کوئی جگہ نہیں ہیں۔ وہ بچوں کی اسمگلنگ، جبری شادیوں، قتل، اور سیکیورٹی کے فقدان کے مقامات ہیں۔

اس کانفرنس میں یزیدیوں کے روحانی لیڈر، یزیدیوں کے شہزادے کے پوتے، دیارفخری یوسف بھی شریک تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کا انسانیت پر سے اعتقاد اٹھ گیا ہے۔ ہم وہ اعتقاد کھو چکے ہیں ۔ اور اس لیے ہمیں وہاں ایک محفوظ جگہ کی ضرورت ہے۔ لیکن سر دست انہیں واپس جانے کے لیے کہنا واقعی بہت مشکل ہے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ یزیدیوں کو اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے نفسیاتی اور روحانی مدد کی اشد ضرورت ہے، وگرنہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بہت سے کبھی وطن واپس نہ جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG