رسائی کے لنکس

موصل کے 20 ہزار شہری شدید خطرے میں ہیں، اقوام متحدہ


عراقی فورسز کا ایک ٹینک داعش کے ٹھکانوں پر گولہ باری کررہا ہے۔ 5 جولائی 2017

اقوام متحدہ کی عراق کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کے شعبے کی عہدے دار لیزا گرینڈ نے بتایا کہ شہری آبادی کو توپ خانوں اور طیاروں کے ذریعے گرائے جانے والے بموں سے شديد خطرات ہیں۔

عراقی فورسز جیسے جیسے موصل میں داعش کے جہادیوں کے آخری ٹھکانوں کو جنگجوؤں سے صاف کرنے کی کوشش کررہی ہیں، تقریباً 20 ہزار شہری شديد خطرے کے گھیرے میں آ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ہمارے اندازے کے مطابق موصل کے پرانے شہر میں ان حصوں میں، جو لڑائیوں کے آخری مراکز ہیں، 15 ہزار سے 20 ہزار تک عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی عراق کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کے شعبے کی عہدے دار لیزا گرینڈ نے بتایا کہ اس شہری آبادی کو توپ خانوں اور طیاروں کے ذریعے گرائے جانے والے بموں سے شديد خطرات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجو ابھی تک اس علاقے میں موجود ہیں اور اگر کوئی عام شہری علاقہ چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسے براہ راست نشانہ بناتے ہیں۔

موصل کی جنگ کے نتیجے میں 9 لاکھ سے زیادہ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا جب کہ ان میں سے تقربیاً 7 لاکھ کے پاس ابھی تک کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

عراقی فوجی موصل شہر کے اندرونی حصوں کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ داعش جس کا ایک دور میں پورے شہر پر کنٹرول تھا، اب اس کا قبضہ دریائے دجلہ کے ساتھ تھوڑے سے حصے پر باقی رہ گیا ہے۔

عراقی فورسز نے موصل کو داعش کے کنٹرول سے آزاد کرانے کے لیے پچھلے سال اکتوبر سے فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

پچھلے ہفتے عراقی فورسز نے موصل کی تاریخی مسجد کے ملبے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ اس مسجد کو، جس کے منبر پر کھڑے ہو کر داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اپنے خلیفہ ہونے کا اعلان کیا تھا، جنگجوؤں نے علاقہ چھوڑنے سے پہلے اسے دھماکے سے تباہ کر دیا تھا۔

منگل کے روز عراقی وزیر اعظم حیدر العبیدی نے عراقی فوج کو موصل میں عظیم فتح حاصل کرنے پر مبارک باد دی تھی، اگرچہ شہر کے کچھ حصوں میں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG