رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیل اسٹین کا محدود اوور کی کرکٹ چھوڑنے کا اشارہ


فائل فوٹو

ڈیل اسٹین کا کہنا ہے کہ جب ورلڈ کپ کے لیے سلیکشن ہوگا تو تجربہ ہی ان کا ٹرمپ کارڈ ہوگا۔

جنوبی افریقہ کے فاسٹ بالر ڈیل اسٹین نے آئندہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے بعد محدود اوور کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا ہے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ وہ 2019ء کے بعد بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہیں گے۔

گزشتہ دو سال سے انجریز کا شکار رہنے والے ڈیل اسٹین کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ کپ 2019ء کے لیے ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ورلڈ کپ کے بعد وہ خود کو جنوبی افریقہ کی جانب سے وائٹ بال کرکٹ کھیلتا نہیں دیکھتے۔ اسٹین 2019ء میں 40 برس کے ہوجائیں گے۔

’کرک انفو‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے فاسٹ بالر نے ممبئی میں ایک پروموشنل ایونٹ کے دوران کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کا تجربہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ڈیل اسٹین کا کہنا تھا کہ اگر جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن اپ پر نظر ڈالی جائے تو چھ ٹاپ آرڈر بیٹسمین ہزار میچز کھیل چکے ہیں۔ لیکن حالیہ نچلے ہاف یعنی آٹھ سے گیارہ نمبر کے کھلاڑیوں نے 150 میچز بھی نہیں کھیلے جس کی وجہ سے ان کے بقول "ہمیں تجربے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔"

اُن کا کہنا تھا کہ جب ورلڈ کپ کے لیے سلیکشن ہوگا تو تجربہ ہی ان کا ٹرمپ کارڈ ہوگا۔

واضح رہے کہ ڈیل اسٹین نے جنوبی افریقہ کے لیے آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ تقریباً دو سال قبل اکتوبر 2016ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا۔ اس کے بعد سے انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

کوچ اوٹیس گبسن سمیت ٹیم مینجمنٹ کا موقف ہے کہ اسٹین کو ٹیسٹ میچز کے لیے فٹنس پر توجہ دینی چاہیے۔

اسٹین کو سری لنکا کے خلاف اتوار سے شروع ہونے والی پانچ میچز کی ون ڈے سیریز کے لیے بھی اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

ڈیل اسٹین 116 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے 26 اعشاریہ 62 کی اوسط سے 180 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ اُن کی بہترین بالنگ پرفارمنس 39 رنز کے عوض 6 وکٹیں رہی ہے۔

اسٹین 88 ٹیسٹ میچوں میں 22 اعشاریہ 63 کی اوسط سے 421 وکٹیں لے چکے ہیں۔ ایک اننگز میں اُن کی بہترین کارکردگی 51 رنز دے کر سات وکٹیں جب کہ کسی بھی ٹیسٹ میچ میں بہترین کارکردگی 60 رنز کے عوض 11 وکٹیں ہے۔

XS
SM
MD
LG