رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیل اسٹین ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے


فائل فوٹو

کرکٹ کے موجودہ اور سابق بڑے کھلاڑی اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ ایک روزہ اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں کے مقابلے میں ٹیسٹ کرکٹ اب بھی بہترین فارمیٹ ہے جس میں کھلاڑیوں کی تیکنیک، اعصاب پر کنٹرول، حکمت عملی اور ذہانت کا بھرپور مظاہرہ ہوتا ہے۔

تاہم، پاکستان کے فاسٹ بالر محمد عامر نے گزشتہ ہفتے صرف 27 سال کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے بعد جنوبی افریقہ کے شہرت یافتہ فاسٹ بالر ڈیل اسٹین نے بھی ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا ہے۔

محمد عامر۔ فائل فوٹو
محمد عامر۔ فائل فوٹو

یہ دونوں فاسٹ بالر اب ٹیسٹ کرکٹ کے بجائے ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

ڈیل اسٹین نے اپنے ٹیسٹ کیرئر کا آغاز 2004 میں انگلینڈ کے خلاف کیا تھا اور انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ اس سال فروری میں سری لنکا کے خلاف کھیلا۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں کل 93 ٹیسٹ کھیل کر 22.95 کی اوسط سے 439 وکٹیں حاصل کیں۔

ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے 36 سالہ اسٹین نے کہا کہ وہ کرکٹ کے ایسے فارمیٹ کو خیرباد کہہ رہے ہیں جسے وہ بے انتہا پسند کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اُن کے خیال میں کرکٹ کا بہترین فارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ ہی ہے جو ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر آپ کا پورا امتحان لیتا ہے۔

اسٹین کا کہنا ہے کہ اس بات کا تصور کرنا مشکل ہے کہ میں مزید کوئی ٹیسٹ نہیں کھیل سکوں گا۔ تاہم، اس سے زیادہ بھیانک یہ تصور ہے کہ میں کسی بھی فارمیٹ کا کوئی بھی میچ نہ کھیل پاؤں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اسٹین کو بہترین ٹیسٹ کیریئر پر مبارکباد دی ہے۔

اسٹین کو موجودہ دور کے بہترین فاسٹ بالرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم، انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو اس وقت خیرباد کیا ہے جب کہ ان کی عمر 36 برس ہے۔ اس عمر میں اکثر فاسٹ بالروں کیلئے ٹیسٹ کرکٹ کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

تاہم، کرکٹ کے شائقین اور ماہرین اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ پاکستان کے فاسٹ بالر محمد عامر نے صرف 27 سال کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG