رسائی کے لنکس

logo-print

آئی سی سی 'ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ' کا آغاز


فائل فوٹو

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کے تحت یکم اگست سے آئندہ دو سال کے دوران دنیا کی 9 سرِ فہرست ٹیموں کے درمیان 71 ٹیسٹ میچز پر مشتمل 27 سیریز کھیلی جائیں گی۔

ان ٹیموں میں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔

'ورلڈ ٹیسٹ چیمپین شپ کا پہلا میچ کل (یکم اگست) سے آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کے مابین کھیلا جائے گا۔

فائنل دو سرِ فہرست ٹیموں کے درمیان جون 2021 میں انگلینڈ میں کھیلا جائے گا۔ فائنل جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑی 'آئی سی سی ورلڈ چیمپئن' قرار پائیں گے۔

آئی سی سی کے جنرل مینیجر کرکٹ آپریشنز جیوف ایلارڈس کا کہنا ہے کہ اس سال موسمِ گرما میں ہونے والے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کرکٹ دنیا کی بہترین ٹیمیوں کے درمیان کس قدر اہم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ' سے آئندہ دو سال کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری آئے گی، مختلف ممالک کے درمیان باہمی اور دوستانہ تعلقات بہتر ہوسکیں گے جبکہ کھلاڑیوں کو قریب آنے کا بھی موقع ملے گا۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جس طرح ایک روزہ انٹرنیشنل میچز اور ٹی 20 فارمیٹس کامیاب اور مقبول ہیں، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ بھی اسی قدر شہرت کامیاب کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

چیمپئن شپ کے لیے طے کردہ قواعد کے مطابق ٹیموں کو میچ پر پوائنٹس ملیں گے۔ ہر ٹیم تین میچز اپنے ملک میں اور تین بیرونِ ملک کھیلے گی۔

ہر سیریز کے 120 پوائنٹس ہوں گے جو سیریز کے تحت ہونے والے میچز کے تناسب سے تقسیم ہوں گے۔

مثال کے طور پر دو میچز کی ایک سیریز کا مطلب 60 پوائنٹس ہیں جب کہ تین میچز کی سیریل کھیلنے پر ہر ٹیسٹ میچ کے 40 پوائنٹس ہوں گے۔

مقابلہ برابر رہنے کی صورت میں دستیاب پوائنٹس کو دونوں ٹیموں کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا۔

میچز کی تعداد ہر سیریز میں مختلف ہوسکتی ہے۔ کم از کم سیریز دو میچز پر مشتمل ہوگی جبکہ زیادہ سے زیادہ میچوں کی کوئی تعداد طے نہیں۔

ورلڈ ٹیسٹ کرکٹ پانچ روزہ میچز پر مشتمل ہوگی جس میں ڈے اینڈ نائٹ میچز بھی شامل ہوں گے۔ لیکن صرف وہی میچز چپمپئن شپ کا حصہ شمار ہوں گے جو باقاعدہ چیمپئن شپ کے تحت منعقد ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG