رسائی کے لنکس

logo-print

تحقیقات کے لیے ٹیلی فون ان لاک کرنا ’خطرناک روایت‘ ہو گی: ایپل


امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اپیل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جس سے سید رضوان فارق کے ٹیلی فون کو یہ دیکھنے کے لیے کھولا جا سکے کہ وہ دسمبر میں حملے سے پہلے کس سے رابطے میں تھا۔

ٹیکنالوجی کمپنی ’اپیل‘ منگل کو امریکی کانگریس کے ایک پینل کو بتائے گی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ملوث دہشت گردوں کے زیر استعمال آئی فون کو ان لاک کرنے کی درخواست لوگوں کی زندگیوں میں ’’حکومتی مداخلت کی ایک خطرناک روایت قائم کرے گی۔‘‘ اس حملے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اپنی گواہی کے پہلے سے جاری کیے گئے مسودے میں اپیل کے قانونی مشیر بروس سویل نے کہا کہ سید رضوان فاروق کے ٹیلی فون کو کھولنے کے لیے سافٹ ویئر کی تیاری دنیا بھر میں کمپنی کے صارفین کے زیر استعمال کروڑوں دیگر ایپل فونز کی سکیورٹی کو کمزور بنائے گی۔

’’ایسے سافٹ ویئر کی تیاری صرف ایک آئی فون کو متاثر نہیں کرے گی۔ یہ تمام فونز کی سکیورٹی کو متاثر کرے گی۔ ہم اس بات پر اتفاق کر سکتے ہیں کہ یہ صرف ایک آئی فون تک رسائی کا معاملہ نہیں۔‘‘

امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اپیل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جس سے سید رضوان فارق کے ٹیلی فون کو یہ دیکھنے کے لیے کھولا جا سکے کہ وہ دسمبر میں حملے سے پہلے کس سے رابطے میں تھا۔ یہ حملہ اس نے اپنی پاکستانی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ یہ دونوں بعد میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

کیلیفورنیا کی ایک عدالت نے اپیل کو حکم دیا تھا کہ وہ ایف بی آئی کے اس مطالبے کو پورا کرے مگر کمپنی نے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

دریں اثنا پیر کو نیو یارک میں ایک عدالت نے کہا تھا کہ محکمہ انصاف اپیل کو اپنا حکم ماننے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے اس فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ محکمہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

قانون نافذ کرنے والے دیگر حکام نے بھی کہا ہے کہ اگر کیلیفورنیا کی عدالت کے حکم کو برقرار رکھا گیا تو وہ کمپنی سے کہیں گے کہ وہ جرائم کی تحقیقات میں ملوث دیگر فون بھی ان لاک کرے۔

ایک سروے کے مطابق امریکیوں کی اکثریت اس معاملے میں حکومتی مؤقف کی حمایت کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG