رسائی کے لنکس

logo-print

ڈینئل پرل کیس، اپیل پر آئندہ ہفتے سماعت کا امکان


پاکستان میں ڈینئل پرل کیس میں سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل جلد سماعت کے لئے مقرر کرنے کی درخواست جمع کرا دی۔ سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ 4 مئی سے شروع ہونے والے ھفتے میں اپیل سماعت کے لئے مقرر کی جائے۔

سندھ حکومت نے ڈینیئل پرل کے قاتلوں کو سزائوں میں کمی اور رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے2 اپریل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان میں انگریزی اخبار، ایکسپریس ٹریبیون نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈینئل پرل کیس میں ڈینئل پرل کا خاندان بھی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کر رہا ہے۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے مطابق، اب تک ایسی کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔ اہل خانہ کی طرف سے اپیل دائر کرنے کے لیے وکیل فیصل صدیقی ایڈوکیٹ کا نام لیا جا رہا ہے۔ فیصل صدیقی سے اس معاملہ پر رابطہ کیا گیا۔ لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔

سندھ حکومت کی درخواست کن بنیادوں پر ہے؟

سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں جو اپیل دائر کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کئی اہم شواہد کو نظرانداز کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملزمان کے اعترافی بیانات کو بھی فیصلے میں مدنظر نہیں رکھا گیا۔

اپیل میں سندھ حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان کا ٹرائل انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ہوا، جس کو عدالت نے فیصلے کے پیرا 14 میں تسلیم کیا۔ لیکن ملزمان کو رہا کرتے ہوئے اس ایکٹ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ لہذٰا، انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ کے مطابق، ثبوت فراہم کرنا استغاثہ کی ذمہ داری تھی اور اس ذمہ داری کو استغاثہ نے پورا بھی کیا۔ لیکن عدالت نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ یہ اغوا برائے تاوان کا کیس تھا، جس میں ناکامی پر ایک بے گناہ شخص کو قتل کردیا گیا۔

سندھ حکومت کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ ریمانڈ کے دوران اور جج کے سامنے احمد عمر سعید شیخ نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ اور اپنے ساتھیوں کا بتایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام ملزمان نے مل کر ڈینئل پرل کو اغوا اور پھر قتل کیا۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانونِ شہادت آرڈیننس کے آرٹیکل 91 کے مطابق تمام تقاضے پورے ہونے کے باوجود بھی گواہان کے بیانات کو اہمیت نہیں دی گئی۔ ملزم احمد عمر سعید شیخ کی سزائے موت ختم کرنا ''انصاف کے قتل کے مترادف ہے''۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت نے احمد عمر سعید کی شناخت پریڈ کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا، جبکہ گواہان کی ملزم کے ساتھ کوئی شناسائی یا دشمنی بھی نہیں تھی۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے ملزمان سلمان ثاقب اور فہد نسیم کے اعترافی بیانات کو بھی اہمیت نہیں دی۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت نے ٹیکسی ڈرائیور ناصر عباس کے بیان کو بھی اہمیت نہیں دی، جس نے گواہی دی تھی کہ اُس نے ڈینئل پرل کو احمد عمر سعید شیخ کے ساتھ دیکھا تھا۔

ڈینئل پرل کا قتل

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینئل پرل کو مئی 2002میں کراچی میں اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ انتہاپسندوں سے متعلق ایک سٹوری پر کام کر رہے تھے۔ ڈینئل پرل کو اغوا کے بعد چند مطالبات کیے گئے اور چند روز بعد انہیں سفاکانہ انداز سے قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کی ویڈیو پو لیس کو حاصل ہوئی۔

بعد میں پولیس نے قتل کے الزام میں چار ملزمان عمر شیخ، فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو گرفتار کیا تھا، جب کہ مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کو قتل اور اغوا کے جرم ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی۔

چاروں ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی جب کہ استغاثہ کی جانب سے مجرموں کی سزاؤں میں اضافے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG