رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں ہندو برادری کی ’شیوراتری‘، دانش کنیریا بھی شریک


دانش کنیریا نے اس بار شیوراتری کا تہوار اسی رام پیر مندر میں منایا۔ ان کی موجودگی کے سبب مندر آنے والے برادری کے رہنماوٴں، نوجوانواں، خواتین اور بچوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوگیا۔ عوام کے چہرے کھل اٹھے اور انہوں نے دانش کنیریا کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے استقبال کیا۔

کراچی میں موریہ خان گوٹھ اور اس میں قائم رام پیر مندر پچھلی کئی راتوں سے جگمگا رہا ہے۔ مندر کے جگمگانے کی اصل وجہ ’شیوراتری‘ کا تہوار ہے جبکہ گوٹھ کے جگمگانے کی وجہ قومی کرکٹ سے وابستہ رہنے والا وہ ستارہ ہے جسے لوگ ’دانش پربھاشنکر کنیریا‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

دانش کنیریا نے اس بار شیوراتری کا تہوار اسی رام پیر مندر میں منایا۔ ان کی موجودگی کے سبب مندر آنے والے برادری کے رہنماوٴں، نوجوانواں، خواتین اور بچوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوگیا۔ عوام کے چہرے کھل اٹھے اور انہوں نے دانش کنیریا کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے استقبال کیا۔

دانش نے مندر میں شیولنگ کا ’ابھی شیک‘ کیا یعنی شیولنگ کو دودھ سے نہلایا اور’ آرتی‘ اتاری۔ یہ شیوراتری کے موقع پر کی جانے والی خصوصی پوجا کا حصہ ہیں۔

اس موقع پر برادی کے ارکان نے دانش کنیریا کی کرکٹ کی دنیا میں واپسی اور کامیاب کیرئیر کے لئے دعا کی۔

ہندو عقائد کے مطابق شیوراتری ’پھاگن‘ یا ’ماگھ‘ مہینے کی تیرہویں اور چودہویں تاریخوں کی درمیان شب منائی جاتی ہے۔ تہوار منانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس رات ہندو دیوتا شیو اور دیوی پاروتی کی شادی ہوئی تھی۔ شادی کی مناسبت سے ہی شیوراتری منائی جاتی ہے۔

شیوراتری کے موقع پر مندوں کو سجایا جاتا ہے اور خصوصی عبادات کی جاتی ہیں۔ شیوراتری کا جشن عموماً پوری رات منایا جاتا ہے۔ شیوجی کے تعارف اور بڑائی میں بھجن گائے جاتے ہیں۔ پوجا کی جاتی ہے۔ ابھی شیک کیا جاتا ہے اور شیو و پاروتی کی آرتی اتاری جاتی ہے۔ ناریل چڑھائے جاتے ہیں جبکہ بیشتر مرد و خواتین اس دن کا ورت (ایک طرح کا روزہ) رکھتے ہیں۔

شیوراتری کا تہوار ایم اے جناح روڈ پر قائم تاریخی سوامی نارائن مندر میں بھی بہت جوش و خروش سے منایا گیا۔

لوگوں کی بہت بڑی تعداد شیوراتری کے سلسلے میں منعقدہ تقریبات منانے وہاں پہنچی تھی۔

XS
SM
MD
LG