رسائی کے لنکس

logo-print

توہینِ عدالت کیس میں دانیال عزیز پر فردِ جرم عائد


دانیال عزیز کی فائل فوٹو

فردِ جرم میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ دانیال عزیز نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ عدالت نے انصاف کا دکھاوا کر کے عمران خان کو بچایا اور پاناما کیس میں نگران جج نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے ریفرنس تیار کرایا۔

سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کیس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر دانیال عزیز پر فردِ جرم عائد کردی ہے۔ دانیال عزیز نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

فردِ جرم میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ دانیال عزیز نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ عدالت نے انصاف کا دکھاوا کر کے عمران خان کو بچایا اور پاناما کیس میں نگران جج نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے ریفرنس تیار کرایا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وفاقی وزیر دانیال عزیز کی جانب سے کی گئی عدلیہ مخالف تقریر پر 2 فروری کو از خود نوٹس لیا تھا۔

چھ مارچ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہینِ عدالت کیس میں وفاقی وزیر برائے نجکاری کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ بادی النظر میں دانیال عزیز کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ بنتا ہے۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو دانیال عزیز کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت کی۔

بینچ میں شامل جسٹس مشیر عالم نے دانیال عزیز پر عائد فردِ جرم پڑھ کر سنائی۔ دانیال عزیز پر فردِ جرم 8 ستمبر، 15 دسمبر اور 21 اکتوبر کے بیانات پر عائد کی گئی ہے۔

فردِ جرم کے متن کے مطابق دانیال عزیز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ نگران جج نے نیب سے ریفرنس تیار کرایا۔ جہانگیر ترین کو قربان کرکے انصاف کا دکھاوا کیا گیا۔ انصاف کا دکھاوا کرکے عمران خان کو بچانا مقصود تھا۔ یہ سب اسکرپٹ کے تحت ہو رہا ہے۔

فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ دانیال عزیز نے کہا تھا کہ ایف زیڈ ای کی بات جسٹس اعجاز الاحسن تک کیسے پہنچی، عوام کو بتائیں گے۔ بیانات کی روشنی میں آپ توہینِ عدالت کے مرتکب پائے گئے۔ آپ نے انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈالی اور عدلیہ کو بدنام کیا۔

وفاقی وزیر دانیال عزیز نے فردِ جرم پر دستخط کر دیے تاہم الزامات ماننے سے انکار کیا۔

وکیلِ صفائی کی تفصیلی جواب جمع کرانے کی استدعا پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ فردِ جرم عائد ہوچکی، جو چاہے جمع کرائیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ گواہ پی آئی ڈی اور پیمرا سے ہوں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا کہ آپ نے استغاثہ کا کردار ادا کرنا ہے، وکیل صفائی نہیں بننا۔ یاد رکھنا مقدمے میں دفاع کے گواہ نہ لے آنا۔ کیس کی آئندہ سماعت 26 مارچ کو ہو گی۔

سپریم کورٹ اس سے قبل حکمران جماعت کے ایک رہنما نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت کے جرم میں ایک ماہ قید اور پانچ سال کے لیے نااہلی کی سزا سنا چکی ہے جب کہ ان کے خلاف قید کاٹنے کے بعد دوبارہ توہینِ عدالت پر مبنی بیانات دینے کے الزام میں ایک اور مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

عدالتِ عظمیٰ میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے خلاف بھی توہینِ عدالت کے الزام میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG