رسائی کے لنکس

وبا کے دوران ’ڈیٹنگ‘ کے نرالے انداز، ڈیٹنگ ایپس کا کاروبار چمک اٹھا


'ٹنڈر' نے بھی اپنی ایپ میں نئے فیچر متعارف کرائے ہیں۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں جہاں ڈیٹنگ ایپس کے استعمال میں اضافہ ہوا، وہیں لوگوں کے ڈیٹنگ کے طریقہ کار میں بھی نمایاں فرق آیا۔

مشہور ڈیٹنگ ایپ ’ٹنڈر‘ نے رپورٹ کیا کہ 2020 میں ان کی ایپ سب سے زیادہ استعمال ہوئی۔ اس کے صارفین نے رواں برس جنوری سے مارچ تک استعمال کے پرانے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ ایسے ہی ایک اور ایپ ’ہنج‘ کے مطابق ان کی 2019 کے مقابلے میں آمدنی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کو امید ہے کہ اس سال بھی ان کی آمدن پچھلے برس کے مقابلے میں دوگنی ہو سکتی ہے۔

وبا کے دوران صارفین کے رویے بدلنے کے ساتھ ساتھ ٹنڈر نے بھی اپنی ایپ میں نئے فیچر متعارف کروائے جن کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ ان فیچرز میں صارفین اپنی پروفائل میں ویڈیوز بھی شامل کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملنے سے قبل گفتگو بھی کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے بات کرتے ہوئے امریکی ریاست نیو جرسی سے تعلق رکھنے والی ڈیٹنگ ایپ کی ایک 42 برس کی صارف جینیفر شرلاک نے بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا کی ابتدا میں وہ چند مردوں کے ساتھ ڈیٹ پر گئیں، لیکن انہیں وہ بہت عجیب لگا۔ ان کے مطابق اس کی وجہ صرف یہی نہیں تھی کہ وہ ان ڈیٹس میں ماسک پہنیں، کھلی جگہوں پر سماجی دوری کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ان کے مطابق ایک ڈیٹ میں وہ ماسک پہنے چہل قدمی کے لیے گئیں مگر ان کے دوست نے انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ بقول جینیفر، ان کے لیے یہ بہت عجیب تھا، کیونکہ کھلے علاقے میں ماسک پہنے وہ زیادہ محفوظ محسوس کر رہی تھیں، جبکہ گھر میں بغیر ماسک کے ملنا ان کے لیے انتہائی غیر محفوط تھا۔

اس کے بعد انہوں نے کسی سے بھی ملاقات سے پہلے ویڈیو پر ان سے چیٹ کرنا شروع کر دیا۔

ڈیٹنگ ایپس کے مطابق ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ وبا کے بعد بھی ویڈیو چیٹ ڈیٹنگ کے دوران معمول بن جائے گی۔

ٹنڈر کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران میچ ہونے والے جوڑوں میں سے آدھوں نے ایک دوسرے سے ملنے سے پہلے ویڈیو پر بات کی۔ ان میں سے 40 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ وبا کے بعد بھی یہ معمول جاری رکھیں گے۔ ہنج کے 69 فیصد برطانوی صارفین کا کہنا ہے کہ وہ وبا کے بعد بھی ویڈیو چیٹ جاری رکھیں گے۔

ٹنڈر سمیت دوسری مقبول ڈیٹنگ ایپس نے، جن میں ہنج، اوکے کیوپڈ اور بمبل بھی شامل ہیں، امریکی حکومت کے اشتراک سے ایک بیج متعارف کروایا ہے جو وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جنہوں نے ویکسین حاصل کر رکھی ہے۔ اے پی کے مطابق اگرچہ اس کی جانچ کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، اور صارفین غلط بیانی کر کے بھی یہ بیج حاصل کر سکتے ہیں۔

سماجیات کے شعبے میں ڈیٹنگ ایپس کی ماہر جیس کاربینو کا کہنا ہے کہ صارفین اب زیادہ گہرے تعلقات کی تلاش میں ہیں۔

ماریا ڈیل مار کا تعلق سپین سے ہے، یہ بتاتی ہیں کہ اپریل 2020 میں وبا کے دوران وہ بارسلونا میں اپنے والدین کے گھر میں رہائش پذیر تھیں جب انہوں نے ڈیٹنگ ایپس استعمال کرنا شروع کیں۔ ان ہی ایپس کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے حالیہ بوائے فرینڈ سے ملیں اور انہوں نے کچھ دنوں تک ان ایپس کے ذریعے گفتگو جاری رکھی۔ جیسے ہی وہ مئی کے مہینے میں ایک دوسرے سے ملے، انہوں نے ایک دوسرے کو بہت پسند کیا۔ ماریا کے مطابق اگر یہ ڈیٹنگ ایپس نہ ہوتیں تو وہ اپنے نئے دوست سے کبھی نہ ملتیں۔

[اس رپورٹ کے لیے مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا]

XS
SM
MD
LG