رسائی کے لنکس

logo-print

صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے کا مطالبہ


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ہم آواز ہوکر مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے ممتاز صحافی کی بیرون ملک سفر پر عائد کی جانے والی پابندیاں فوری طورپر ہٹائی جائیں۔

ایمنسٹی کی بین الاقوامی أمور سے متعلق انٹرنیشنل ڈائریکٹر اوڈری گاؤگرام نے کہا کہ صحافت کوئی جرم نہیں ہے۔ انہیں کسی خوف کے بغیر آزادانہ کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر أعظم نواز شریف کے دفتر کا جانب سے استعمال کی جانے والی زبان پر بھی نکتہ چینی کی۔

پاکستان کے موقر انگریزی روزنامہ ڈان کے صحافی سرل المائڈا نے کہا کہ اُن کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

صحافی سرل نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئیٹر‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ اُن کا نام ’’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘‘ میں شامل کر دیا گیا ہے، جب کہ ڈان اخبار نے بھی اپنی منگل کی اشاعت میں کہا ہے کہ اُن کے صحافی کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ’’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘‘ یعنی ’’ای سی ایل‘‘ میں شامل افراد کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد ہوتی ہے۔

وزرات داخلہ سے اس بارے میں رابطے کی کوشش کی گئی تاکہ سرل المائڈا کا نام ’’ای سی ایل‘‘ میں شامل کرنے وجہ معلوم کی جا سکے لیکن تاحال وزارت داخلہ کی طرف سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

صحافی کو اس اقدام کا سامنا اُس خبر کی بنا پر کرنا پڑا، جس میں اُنھوں نے تحریر کیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ملک کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سویلین قیادت نے فوج سے کہا کہ وہ ایسی انتہا پسند تنظیموں اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کرے جن کے خلاف ماضی میں کارروائی نہیں کی گئی، بصورت دیگر ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم حکومت کی طرف اس خبر کی ترید کرتے ہوئے اسے ’’من گھڑت‘‘ خبر قرار دیا گیا۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی سرل المائڈا کے بیرون ملک سفر پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور ’’اگر حکام کو ان سے کوئی شکایات ہیں تو ان کا ازالہ قانون، معین طریقہ کار کے حق اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اظہار رائے کی آزادی کے تناظر میں کیا جائے۔‘‘

’’ایچ آر سی پی‘‘ نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ” سرل المائڈا کو بیرون ملک سفرسے روکنا اور انتہائی معتبر ڈان اخبار کے مالکان پر دباؤ ڈالنا ملک کے اندر اور باہر ان لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بنے گا جو آزادی رائے اور صحافیوں کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی صحافی برادری کو پاکستان پر تنقید کا موقع دینے کا وقت نہیں ہے۔‘‘

ملک کے سینیئر صحافی ضیا الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کسی صحافی کے خلاف اس طرح کا اقدام اُن کے بقول آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔

’’حکومت نے (خبر شائع ہونے کے بعد) پہلے دن چھ اکتوبر کو جو ردعمل دیا تھا، اُس کو اگر آپ پڑھ لیں تو اس سے ہی (ڈان اخبار کی) خبر کی تصدیق ہوتی ہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس ایشو کو کسی حد تک چھوڑ دینا چاہیئے تھا۔‘‘

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک متحرک رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری سے جب صحافی سیرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق رابطہ کیا گیا، تو اُنھوں نے کہا کہ اب تک کوئی سرکاری دستاویز سامنے نہیں آئی۔

’’یقیناً صحافتی آزادی کو مدنظر رکھا جائے گا، اور ہمیں انتظار کرنا چاہیئے کہ جب تک سرکاری طور پر ایسی دستاویز سامنے نا جائے، اس خبر کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔‘‘

لیکن سینیئر صحافی ضیا الدین کہتے ہیں کہ ڈان اخبار نے بھی اپنی منگل کی اشاعت میں کہا ہے کہ اُس کے صحافی کو ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے اور اُن کے بقول اسے تصدیق ہی سمجھنا چاہیئے۔

’’ڈان نے آج کے اخبار میں یہ خبر شائع کی ہے کہ سیرل کو ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے، میں اسے تصدیق ہی سمجھتا ہوں۔ اگر اخبار خود ہی کہہ رہا ہے کہ ہمارے رپورٹر کو اُنھوں نے ای سی ایل ڈال دیا ہے۔‘‘

اخبار میں یہ خبر ایسے وقت شائع ہوئی جب گزشتہ ماہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اوڑی کے علاقے میں فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد بھارت کی طرف سے الزام لگایا گیا کہ یہ کارروائی پاکستان میں موجود ایک کالعدم تنظیم کے عسکریت پسندوں نے کی۔

تاہم پاکستان کی طرف سے بھارت کے الزام کی متعدد بار تردید کی گئی۔

پیر کو پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ایک مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل رضوان اختر بھی شریک تھے۔

اس اجلاس کے بعد جاری بیان میں ایک مرتبہ پھر ’ڈان‘ اخبار کی خبر کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے اُن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

سرکاری بیان کے مطابق ’پرنٹ اور الیکٹرانگ‘ میڈیا سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ قومی سلامتی کے امور اور ریاست کے مفادات سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں دینے سے خود کو باز رکھیں۔

اُدھر روزنامہ ڈان نے وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے بعد وضاحت جاری کی ہے۔

اخبار کے مطابق وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جس خبر کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دے کر مسترد کیا گیا ’’ڈان نے اس کی تصدیق کی، کراس چیک کیا اور اس میں موجود حقائق کو جانچا تھا۔‘‘

وضاحتی بیان میں اخبار نے کہا کہ بیشتر امور سے آگاہ سینیئر عہدیداروں اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک افراد سے معلومات لینے کے لیے اخبار نے رابطہ کیا اور ان میں سے ایک سے زائد ذرائع نے خبر میں شائع تفصیلات کی تصدیق کی۔

XS
SM
MD
LG