رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ: الشباب کے حملے میں 25 افراد ہلاک


دونوں حملوں کی ذمہ داری صومالیہ میں سرگرم شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کرلی ہے۔

صومالیہ کے مغربی علاقے میں دو بم دھماکوں کےنتیجے میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے دارالحکومت موغادیشو سے 245 کلومیٹر مغرب میں واقع شہر بیدووا کے مرکزی چوک پر ہوئے۔

علاقہ پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ کار میں نصب بم پھٹنے سے ہوا جو شہر کے مرکزی کاروباری علاقے میں واقع ایک بڑے ہوٹل کے نزدیک مصروف سڑک پر کھڑی تھی۔

پہلے دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد ایک خود کش حملہ آور نے اسی علاقے میں واقع ایک مصروف ریستوران میں خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

ہلاک ہونے والوں میں علاقائی حکومت کے ایک وزیر نور ملق بھی شامل ہیں۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری صومالیہ میں سرگرم شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کرلی ہے۔

الشباب نے ان حملوں سے دو روز قبل موغادیشو میں ہونے والے دو بم دھماکوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جن میں 25 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے تھے۔

القاعدہ سےمنسلک صومالی شدت پسند تنظیم الشباب چند سال قبل تک دارالحکومت کے کئی علاقوں سمیت صومالیہ کےبڑےحصے پر قابض تھی۔

تاہم 2011ء میں صومالیہ کی بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت کی فوج نے افریقی یونین کے فوجی دستوں کی مدد سے شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جو کئی سال جاری رہی تھی۔

اس کارروائی کےنتیجے میں الشباب سے صومالیہ کا بیشتر علاقہ بازیاب کرایاجاچکا ہے جس پر صومالی حکومت افریقی یونین کے فوجی دستوں کی مدد سے اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔

لیکن صومالیہ کے دور دراز علاقوں میں اب بھی الشباب کے ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے جنگجو موغا دیشو سمیت حکومت کے زیرِ قبضہ بیشتر بڑے شہروں میں سرکاری دفاتر اور افریقی یونین کی فوجی تنصیبات پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG