رسائی کے لنکس

'میں بھی جناب صدر کی طرح دیوار بنانا چاہتا ہوں'


'ڈئیر ڈونلڈ ٹرمپ'
'ڈئیر ڈونلڈ ٹرمپ'

’’ڈیئر مسٹر پریزیڈنٹ!

مسئلہ یہ ہے کہ میرے بھائی کے پاس ایک فون ہے اور وہ اجازت نہ ہونے کے باوجود رات کو اس پر گیم کھیلتا ہے۔ اس وجہ سے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میں نے امی اور ڈیڈی کو تجویز دی ہے کہ وہ مجھے کمرے میں ایک دیوار بنانے دیں۔ انھوں نے جواب دیا ہے، نہیں۔

آپ کا مخلص، سام

یہ دلچسپ خط ایک کتاب میں شامل ہے جس کا نام ہے، ڈیئر ڈونلڈ ٹرمپ۔

گزشتہ دنوں خبر ایجنسی رائٹرز کے صحافی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کا انٹرویو کرنے پہنچے تو یہ کتاب ان کے کمرے میں موجود تھی۔

اس کتاب کا مرکزی کردار ایک بچہ سام ہے جس نے کہیں سے سن لیا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان ایک دیوار بنانا چاہتے ہیں۔ سام کو اپنے بھائی کے ساتھ روم شیئر کرنا پڑتا ہے۔ دونوں کی آپس میں بنتی نہیں اس لیے سیم بھی کمرے میں دیوار تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

کتاب میں سام کے وہ تمام خط شامل ہیں جو اس نے صدر ٹرمپ کو لکھے۔ لیکن اسے آج تک کسی خط کا جواب نہیں ملا۔ یہ کتاب سوفی سائیرز نے لکھی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن نے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا کہ 'ڈیئر ڈونلڈ ٹرمپ' مزے کی کتاب ہے۔ اس جواب سے معلوم ہوا کہ انھوں نے یہ کتاب پڑھی ہے۔

وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کے بارے میں گمان ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی مخالف ہیں کیونکہ دونوں کے خیالات اور پالیسیوں میں بہت فرق ہے۔ لیکن وہ خود بات کی نفی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستمبر کے دوران نیویارک میں صدر ٹرمپ سے ان کی ملاقات خوشگوار رہی تھی۔

رائٹرز کے صحافیوں نے ان کے کمرے میں کئی دوسری کتابیں بھی دیکھیں جن میں 'ڈیئر پرنسس میگھن' اور چیلسی کلنٹن کی کتاب 'شی پرسسٹڈ' شامل تھیں۔

XS
SM
MD
LG