رسائی کے لنکس

خارکیف میں موت کے سائے، ہلاک ہونے والوں کا کوئی وارث سامنے نہیں آتا


خارکیف۔ 2 مئی 2022ء
خارکیف۔ 2 مئی 2022ء

ایسے میں جب یوکرین اور روس کی افواج زمین کے اس قیمتی حصے پر کنٹرول کے لیے لڑائی میں مصروف ہیں، خارکیف کےکئی مضافات مردہ خانوں کا منظر پیش کررہے ہیں، جہاں کئی ہفتوں تک لاشیں پڑی رہتی ہیں اور ان کے وارث نظر نہیں آتے۔

ایک قصبے کے باہر ایک نامعلوم شخص کی ناقابل شناخت لاش ٹینک شکن بیرئر (رکاوٹ) میں لٹکی ہوئی ہے، اس علاقے پر کنٹرول کے حالیہ دنوں کے دوران دونوں فریق پیش پیش رہے ہیں۔ ایک جگہ ہلاک ہونے والے روسی فوجی کی لاش پڑی ہے جب کہ ایک اور مقام پر چار روسی فوجیوں کی لاشیں اس انداز میں زمین پر پڑی ہیں کہ جیسے انگریزی کا حرف زیڈ لکھا ہو، جو روسی بکتربند گاڑیوں کا مروجہ نشان ہے۔ ان لاشوں کو روسی ڈرونز کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے، جو سروں کےا وپر سے گزر جاتے ہیں۔ ایک اپارٹمنٹ کے داخلی دروازے پر تین لاشیں پڑی ہیں۔

مختصر یہ کہ شاید کوئی کبھی نہیں بتا پائے گا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے۔

خارکیف یوکرین کا دوسرا بڑا شہر ہے، جس پر گزشتہ فروری میں جب سے لڑائی کا آغاز ہوا ہے روسی حملہ جاری رہا ہے۔ اب جب کہ روسی حملے کی شدت مشرق کی جانب زیادہ ہے، پھر بھی خارکیف کی لڑائی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

خارکیف کی سڑک پر رکاوٹ کی باڑ سے لٹکی ہوئی نامعلوم شخص کی لاش، 30 اپریل 2022ء (فائل فوٹو)
خارکیف کی سڑک پر رکاوٹ کی باڑ سے لٹکی ہوئی نامعلوم شخص کی لاش، 30 اپریل 2022ء (فائل فوٹو)

اس شہر کو دفاعی اور صنعتی شہر ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ خارکیف شہر کے مشرقی مضافات روسی اور یوکرینی فوج کے کنٹرول میں آتے جاتے رہے ہیں، اب یہ لڑائی گاؤں گاؤں پھیل چکی ہے۔ کئی لوگ جان بچا کر شہر سے بھاگ نکلے ہیں، لیکن اب بھی خارکیف کی دس لاکھ کی آبادی کا کافی حصہ یہیں موجود ہے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق اس شہر میں موجود صحافیوں نے یہاں کا نقشہ یوں کچھ کھینچا ہے کہ چند لاشیں ایسی ہیں جن کے ہاتھوں میں سفید پٹی بندھی ہوئی ہے، جو روسی فوجیوں کی پہچان ہے، جب کہ ان کی نعشوں کے ساتھ روسی طبی امدادی کٹس پڑی ہیں۔ ان کو زیڈ کی شکل میں رکھا گیا ہے۔ یہ لاشیں اُس محاذ جنگ پر پڑی ہیں جس علاقے کا قبضہ بدلتا رہتا ہے۔

پیر کو ایک جھلسےہوئے شخص کی میت کے ساتھ یہ لاشیں بھی ایک مقامی مردہ خانے میں منتقل کی گئیں۔

کسی کے پاس اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ یہ میتیں زیڈ کی شکل میں کیوں رکھی گئی ہیں، جو روسی جارحیت کی علامت ہے، یا پھر رکاوٹ والی باڑ پرلاش کس نے ڈالی؟ میت کی بے حرمتی کا معاملہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

اگلہ مرحلہ شناخت سے متعلق تفتیش کا ہوگا تاکہ متعلقہ خاندانوں کو مرنے والے کی اطلاع کی جاسکے۔لیکن یہ ایک معمہ ہے جسے اتنی آسانی کے ساتھ سلجھایا نہیں جا سکتا۔

یوکرینی زبان کا ’ نشان عزت‘ ایک نعش پر آویزاں ہے لیکن اس نعش کے ساتھ شناخت کے جو کاغذات رکھے ہیں وہ ایک روسی فوجی کے ہیں۔ اپارٹمنٹ جہاں تین لاشیں پڑی ہوئی تھیں، یہ اپارٹمنٹ گولہ باری کا شکار لگتا ہے، لیکن ان کی ہلاکت کی وجہ واضح نہیں۔

گولہ باری اور بم حملے یہاں آئے دن کا معاملہ ہے اور جب تک یہ صورت حال جاری رہتی ہے، کسی بھی وقت کوئی بھی ہلاک ہوسکتا ہے جب کہ یہ بتانے والا موجود نہیں ہوگا کہ دراصل ہوا کیا ہے؟

لڑائی میں شاذونادر نظر آنے والے یہ چند مناظر ہیں۔ مشرقی یوکرین کی لڑائی کے بارے میں مکمل تصویر کشی مشکل ہے چونکہ فضائی کارروائیوں اور توپخانے سے برسائی جانے والی گولہ باری کی وجہ سے کوریج کے لیے اس علاقے میں صحافی تک نہیں جاسکتے۔ روسی فوج نے محاذ جنگ یا لڑائی زدہ علاقے سےخبروں کی ترسیل پر شدید پابندیاں لگادی ہیں، جب کہ یوکرین کی حکومت نے شاید اتنی شدید پابندیاں نہیں لگائیں۔

ریڈ کراس کے مطابق، بین الاقوامی مسلح تنازعات میں نعش کی بے حرمتی ایک جنگی جرم شمار ہوتا ہے۔اس ضمن میں جرائم سے متعلق بین الاقوامی عدالت کے ضابطے واضح ہیں۔

XS
SM
MD
LG