رسائی کے لنکس

logo-print

الجزائر: مغویوں کی رہائی، ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ


یرغمال بنائے گئے سیکڑوں ملکی و غیر ملکی کارکنوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی فوجی کاروائی میں 23 مغوی اور 32 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

الجزائر کی حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کی ایک گیس فیلڈ میں یرغمال بنائے گئے کارکنوں کی رہائی کے لیے جو کاروائی کی گئی تھی اس میں ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

الجزائر کی وزارتِ داخلہ نے اتوار کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاروائی کے خاتمے کےبعد کئی ممالک کی جانب سے ان کے بعض شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے جنہیں تلاش کیا جارہا ہے۔

ہفتے کو وزارتِ داخلہ نے بتایا تھا کہ ملک کے مشرقی علاقے 'الامیناس' میں قائم گیس فیلڈ میں یرغمال بنائے گئے سیکڑوں ملکی و غیر ملکی کارکنوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی فوجی کاروائی میں 23 مغوی اور 32 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اتوار کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاروائی میں تین برطانوی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ گمان ہے کہ مزید تین برطانویوں کو اغواکاروں نے قتل کردیا تھا۔

اس سے قبل امریکی حکام نے کہا تھا کہ کاروائی میں کم از کم ایک امریکی شہری کے ہلاک ہونے کا پتا چلا ہے۔

الجزائر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کاروائی کے نتیجے میں 107 غیر ملکیوں اور 685 الجزائری باشندوں کو اغواکاروں سے رہائی دلائی گئی ہے۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اے پی ایس' کے مطابق اسپیشل فورسز کے دستوں نے صحرا میں واقع وسیع و عریض گیس فیلڈ پر قبضہ کرنے والے مسلمان جنگجووں کے خلاف اور ان کے تحویل میں موجود سیکڑوں کارکنوں کی رہائی کے لیے ہفتے کو فیصلہ کن کاروائی کا آغاز کیا تھا۔

گیس فیلڈ کے انتہائی دور دراز علاقے میں واقع ہونے کے باعث کاروائی کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

ہفتے کو فرانس نے مغویوں کی رہائی کے لیے الجزائر کی جانب سے کی جانے والی فوجی کاروائی کی توثیق کی تھی۔

فرانسیسی حکومت نے کہا تھا کہ چوں کہ سفاکانہ عزائم رکھنے والے ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنا ممکن نہیں تھا لہذا ان کے خلاف فوجی کارروائی ہی مناسب ترین متبادل تھا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے بھی فوجی کاروائی میں ہونے والی ہلاکتوں کی تمام تر ذمہ داری اغواکاروں پر ڈالتے ہوئے ان کے اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ دفاع فلپ ہیمنڈ نے بھی ہلاکتوں کا ذمہ دار شدت پسندوں کو ٹہرایا ہے۔

الجزائر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق گیس فیلڈ پر حملہ کرنے والے شدت پسند کئی گاڑیوں میں سوار اور بھاری اسلحے سے لیس تھےجنہوں نے الجزائر اور لیبیا کی سرحد سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا۔

وزارت کے مطابق مذکورہ گیس فیلڈ بین الاقوامی آئل کمپنی 'بی پی'، ناروے کی آئل فرم 'اسٹیٹ آئل' اور الجزائر کی سرکاری کمپنی 'سوناٹریچ' کے مشترکہ انتظام میں ہے۔

الجزائر کی ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گیس فیلڈ پر بدھ کو علی الصباح کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری 'القاعدہ' سے منسلک ایک مقامی شدت پسند تنظیم نے قبول کی تھی۔

شدت پسندوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کاروائی پڑوسی ملک مالی میں مسلمان جنگجووں کےخلاف فرانس کی فوجی کاروائی کے ردِ عمل میں کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے گیس فیلڈ کے جن غیر ملکی کارکنوں کو یرغمال بنایا گیا تھا ان میں امریکہ، برطانیہ، جاپان، ناروے، رومانیہ، فلپائن، فرانس، ملائشیا اور آسٹریا کے باشندے شامل تھے۔

جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ کاروائی مکمل ہونے کے بعد بھی اس کے کئی شہری تاحال لاپتہ ہیں۔
XS
SM
MD
LG