رسائی کے لنکس

logo-print

نگراں وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے اثاثوں کا اعلان


نگران وزیرِ اعظم ناصر الملک عہدہ سنبھالنے کے بعد فوجی دستے سے سلامی لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اعظم 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مقروض ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کی سنگاپور میں 7 لاکھ ڈالر اور برطانیہ میں 2 لاکھ 72 ہزار پاوٴنڈ کی پراپرٹی ہے جب کہ اُن کا 10 کروڑ روپے کا بینک بیلنس بھی ہے

پاکستان میں نگران وزیر اعظم اور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی ہیں۔ نگران وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک سنگاپور اور برطانیہ میں کروڑوں روپے مالیت کی املاک کے مالک ہیں۔

الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعظم ناصر الملک کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں جس کے مطابق نگراں وزیر اعظم کی سنگارپور اور برطانیہ میں جائیدادیں اور اسلام آباد میں 3 پلاٹ ہیں۔ نگراں وزیر اعظم کا ڈپلومیٹ انکلیو میں اپارٹمنٹ بھی ہے جب کہ لندن اور سنگاپور میں جائیداد بیوی کے نام پر ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اعظم 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مقروض ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کی سنگاپور میں 7 لاکھ ڈالر اور برطانیہ میں 2 لاکھ 72 ہزار پاوٴنڈ کی پراپرٹی ہے جب کہ اُن کا 10 کروڑ روپے کا بینک بیلنس بھی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق، نگراں وزیر اعظم کی سوات میں 45 دکانیں جب کہ فلور مل اور سی این جی اسٹیشن میں شیئرز بھی ہیں۔

نگراں وزیر اعظم نے اہلیہ کے نام سے7 لاکھ 22 ہزار امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے، جبکہ ان کی زیر ملکیت ہونڈا سوک 2012 ماڈل کی کار کی مالیت10لاکھ روپے ہے۔

نگراں وزیر اعظم نے اپنے اثاثوں کی تفصیل میں 31 لاکھ روپے کے زیورات اور 65 لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر، 4 مختلف بینکوں کے اکاونٹ میں 10 کروڑ 25 لاکھ سے زائد رقم کی موجودگی ظاہر کی ہے۔

الیکشن کمیشن میں جمع دستاویزات کے مطابق، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری کے پاس 70 لاکھ روپے مالیت کا ایک گھر ہے؛ اور اُن کے پاس 9 لاکھ 30 ہزار روپے نقد اور پرائز بانڈ ہیں۔

دستاویزات کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس ایک کروڑ کا بینک بیلنس ہے اور دو کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت 8 مئی 2018 کو الیکشن کمیشن نے نگران حکومت کے عہدیداروں سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کی تھی۔

الیکشن ایکٹ کے تحت نگران انتظامیہ بشمول وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی وزرا تقرری کے تین روز کے اندر اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

تمام عہدیداروں کو اپنی اور اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو دینا ہوتی ہے۔ تاہم، ابھی تک صرف نگران وزیر اعظم اور پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی جانب سے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG