رسائی کے لنکس

logo-print

مسلم لیگ (ن) نے حسن عسکری کی نامزدگی مسترد کر دی


حسن عسکری

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ’’حسن عسکری سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے نے آئندہ عام انتخابات، خاص طور پر، پنجاب میں انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیا ہے‘‘

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پروفیسر حسن عسکری رضوی کو بطور نگران وزیر اعلٰی پنجاب لگانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خان عباسی نے لاہور میں مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف پی ٹی آئی کی جانب سے حسن عسکری اور ایاز امیر کے نام دیے گئے تھے۔ دونوں شخصیات کے خیالات اخبارات میں پڑھے جا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "نگران سیٹ اپ نیوٹرل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کا معاملہ پورے الیکشن عمل کو مشکوک بنا دے گا۔ حسن عسکری کے ن لیگ کے بارے میں جو خیالات ہیں وہ بیان نہیں کر سکتا۔ ان کے ٹویٹس اور آرٹیکل بھی ن لیگ کے خلاف ہیں"۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے نگران وزیراعلٰی پنجاب کے دئیے گئے نام اچھی شہرت کے حامل افراد کے تھے اور ان کی غیر جانب داری پر کوئی شک نہیں تھا۔

بقول اُن کے، "حسن عسکری غیر جانبدار آدمی نہیں ہیں، ضروری ہے کہ سیٹ اپ نیوٹرل ہو اور عوام کو نیوٹرل ہوتا نظر بھی آئے۔ لیکن، پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری نے پورا معاملہ مشکوک بنا دیا ہے۔ نظر آرہا ہے یہ الیکشن شفاف اور آزادانہ نہیں ہوں گے"۔

اس موقع پر سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے حسن عسکری کی بطور نگران وزیراعلٰی پنجاب بارے کہا کہ وہ اچھے پڑھے لکھے شخص ہیں اور ان کی جماعت ایسے اشخاص کی عزت کرتی ہے۔ لیکن، حسن عسکری پی ٹی آئی کے پکے کارکن ہیں اور ان کے کالم اور تجزیے سب کے سامنے ہیں۔

"حسن عسکری خود نیوٹرل نہیں تو وہ غیر جانبدار الیکشن کیسے کرائیں گے؟ ہمیں امید ہے کہ ن لیگ کے تحفظات کے بعد حسن عسکری خود اپنا نام واپس لے لینگے"

پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل چوہدری منظور نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آئینی عمل کو مزاق بنایا ہوا ہے۔ ن لیگ اور تحریک انصاف نے نگران سیٹ اپ کو ساس بہو کے جھگڑے کا ڈرامہ بنا رکھا ہے۔

"وفاق اور سندھ جہاں پی پی پی تھی وہاں معاملات احسن طریقے سے نمٹا دیے گئے، جہاں جہاں نون لیگ اور تحریک انصاف کا زیادہ کردار تھا وہاں تماشا ہوا۔ ایسی جماعتیں جن میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں وہ ملک کیسے چلائیں گی۔ ان دونوں جماعتوں نے جمہوری اور سیاسی قوتوں کو بدنام کر رکھا ہے"۔

اپنی نامزدگی بطور وزیراعلٰی پنجاب پر ڈاکٹر حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھاری ذمہ داری ہے اور وہ کوشش کرینگے کہ اسے احسن طریقے سے نبھائیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ ’’ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ اگر ن لیگ کو ان کی تقرری پر اعتراض ہے تو وہ اسے چیلنج کر سکتی ہے‘‘۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے بطور پانچویں نگران وزیر اعلٰی پنجاب نامزدگی کے بعد ڈاکٹر حسن عسکری جمعے کے روز گورنر ہاؤس لاہور میں اپنے عہدے کا حلف لینگے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG